ایلون مسک کا راکٹ خرید لیتے وقت کی بچت ہو جاتی۔ غریب عوام کے روزگار ختم کر کے اپنی شاہانہ انداز زندگی کے لیے افسانے تخلیق کیے جا رہے ہیں۔
کیا انے والا ہر وزیر اعلی اسی طرح فضول خرچ ہو گا۔ کیا وہ ریل میں سفر کرنے والا نہیں ہو گا۔ ایسی دلیل دیتے ہیں جو شاہانہ زندگی کو ضرورت زندگی بنا دیتی ہے۔
جہاز ایئر پنجاب کا ہو یا پنجاب گورنمنٹ کا ۔۔۔ جہاز حکومت پنجاب کا ہی اثاثہ ہو گا ۔ اور اس کا استعمال بھی حکومت پنجاب کی منظوری سے ہی ہو گا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور بلوچستان جب اسلام آباد آتے ہیں تو اپنی حکومتوں کے جہازوں پر ہی آتے ہیں ۔ خیبر پختونخوا حکومت کے پاس بھی دو ہیلی کاپٹر ہیں ۔ پنجاب واحد صوبہ جس پر کوئ قرضہ نہیں ۔ ہر طرح کے فلاحی اور ترقیاتی کام ہو رہے ہیں ۔ جہاز کی ضرورت ہے تو لیا گیا ہے ۔ 5000 ارب روپے سالانہ بجٹ والا صوبہ اور دنیا کے شاید ایک درجن ملکوں سے ہی چھوٹا ہو گا ۔ نہ وزیر اعلیٰ نے یہ جہاز ساتھ لے جانا ہے نہ ہی یہ ذاتی استعمال کیلئے ہے ۔ کارکردگی پر بات اور مقابلہ کرنا اور بات ہے ۔