Joined December 2023
1,934 Photos and videos
Pinned Tweet
24 Jun 2024
#خاتم_النبیین_محمدﷺ اللَّهُمَّ صل علَى مُحَمَّدٍ وعلَى آلِ مُحَمَّدٍ،كما صَلَّيْتَ علَى إبْرَاهِيمَ،وعلَى آلِ إبْرَاهِيمَ،إنَّكَ حَمِيدٌمَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ علَى مُحَمَّدٍوعلَى آلِ مُحَمَّدٍ،كما بَارَكْتَ علَى إبْرَاهِيمَ،وعلَى آلِ إبْرَاهِيمَ إنَّكَ حَمِيدٌمَجِيدٌ
293
596
689
27,874
Zeenia retweeted
آپکا دل اگر نیکی کےکاموں کلیے تنگ محسوس ہو تو یہ دعا پڑھیں رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي اے میرے رب میرا سینہ کھول دے اورمیرا کام آسان کراور میری زبان سےگرہ کھول دے۔کہ میری بات سمجھ لیں سورۃ طٰہ.25.28
2
4
55
Zeenia retweeted
❀﷽❀ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ #خاتم_النبیین_محمدﷺ#درود_وسلام اے الله مجھے اس چیز کی توفیق دے جسے تو پسند کرے. اچھاسمجھے‘ خواہ وہ قول ہو یا عمل یا فعل یا نیت یا طریق‘ میری مدد کر علم دے کر اور مجھے آراستہ کر وقار دے کر بیشک تو ہی ہر چیز پر قادر ہے🤲🏻
62
31
80
389
رمضان کا چوتھا روزہ 22 فروری 26 اتوار اے اللہ کریم یہ دن یزیدیوں کے لئے باعث عبرت اور سچے پاکستانیوں کے لئے باعث راحت و سکون ہو آمین ثم آمین یارب العالمین
3
3
30
کمبخت ضبطِ غم تجھے غارت کرے خدا۔۔۔ یوں لگ رہا ہے کہ میں پریشان ہی نہیں !! #اردو_زبان
اور سمجھتے ہیں کہ جو مسکرا رہا ہے وہ ٹھیک ہے، انہیں کیا خبر کہ بعض مسکراہٹیں آنکھوں کے آنسوؤں کی امانت ہوتی ہیں۔ 🖤 🥀 #خامو_شی #TDR_now#A___silence
3
17
19
183
Zeenia retweeted
موضوع :ـ دلدل افسانہ رات کی سیاہی اُس گاؤں پر یوں چھائی ہوئی تھی جیسے کسی نے آسمان کو کالے کفن میں لپیٹ دیا ہو۔ گلی کے کونے میں واقع ٹوٹے پھوٹے مکان کی کھڑکی سے ایک مدھم سی روشنی رِس رہی تھی، جو اندھیرے کے سمندر میں ڈوبتی ہوئی کشتی کی طرح بے بس نظر آتی تھی۔ شبیر اُس روشنی کے قریب بیٹھا اپنے ہاتھوں کو گھور رہا تھا۔ یہ وہی ہاتھ تھے جو کبھی صبح کی نماز کے بعد قرآن کے صفحات پلٹتے تھے، آج اُن پر سیاہی کی ایسی تہہ جم گئی تھی جسے وضو کے پانی سے دھویا نہیں جا سکتا تھا۔ یہ ہاتھ اب اُس کے نہیں رہے تھے - یہ کسی اور کے تھے، کسی اجنبی کے، جو رات کی تاریکی میں گناہ کے بیج بوتے تھے۔ "ابو! روٹی..." چھوٹی سائرہ کی کمزور آواز نے اس کے خیالات کی زنجیر توڑی۔ شبیر نے اپنی چھ سالہ بیٹی کی طرف دیکھا۔ بھوک نے اُس کے گالوں کو اندر کی طرف دھکیل دیا تھا اور آنکھوں میں وہ چمک نہیں رہی تھی جو بچپن کا حق ہوتی ہے۔ اُس کی آنکھیں دو خشک کنوؤں کی طرح تھیں جن میں امید کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں بچا تھا۔ کونے میں پڑے بستر پر اس کی بیوی ثمینہ کھانسی کے دورے میں لڑ رہی تھی۔ ٹی بی نے اُس کے پھیپھڑوں کو ایسے چاٹا تھا جیسے زنگ لوہے کو کھا جاتا ہے۔ اُس کی ہر سانس ایک آری کی طرح اُس کے سینے کو چیرتی تھی۔ "بس پتری، ابھی بناتا ہوں۔" شبیر نے کہا، مگر اُس کی آواز میں وہ یقین نہیں تھا جو باپ کی آواز میں ہونا چاہیے۔ اُس کے الفاظ خالی خول کی طرح تھے - بغیر روح کے، بغیر وزن کے۔ آٹے کا ڈبہ خالی تھا۔ چولہے کے پاس پڑی لکڑیاں گیلی تھیں۔ گھر کے ہر کونے سے مفلسی کی بو آ رہی تھی، وہ بو جو انسان کی روح کو گلا دیتی ہے۔ دیواروں پر گزری ہوئی خوشیوں کے نشانات ایسے مٹ رہے تھے جیسے بارش میں ریت پر بنی تصویریں۔ شبیر باہر نکلا۔ گلی میں مٹی کا وہ راستہ تھا جو بارش میں دلدل بن جاتا تھا۔ آج بارش نہیں ہو رہی تھی، مگر شبیر کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ خود ایک ایسی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ ہر قدم کے ساتھ وہ گہرا اور گہرا دھنستا جا رہا تھا، اور جتنا وہ نکلنے کی کوشش کرتا، دلدل اُسے اتنی ہی مضبوطی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ صبح کی اذان کے وقت شبیر مسجد کے باہر کھڑا تھا، مگر اندر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ مسجد کا دروازہ اُسے کسی عدالت کے دروازے کی طرح لگ رہا تھا، جہاں اُس کے گناہوں کا فیصلہ ہونا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جب وہ سجدے میں جائے گا تو اللہ سے کیا مانگے گا؟ روٹی؟ دوا؟ یا معافی؟ اُس کے سینے میں دل ایک ٹوٹی ہوئی گھڑی کی طرح دھڑک رہا تھا - بے ترتیب، بے سمت، بے معنی۔ "بھئی شبیر!" پیچھے سے آواز آئی۔ شبیر نے مڑ کر دیکھا۔ سیٹھ منشا رام اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ یہ وہی سیٹھ تھا جس کی زمینوں پر شبیر کبھی مزدوری کرتا تھا۔ اُس کی مسکراہٹ ایک شکاری کی مسکراہٹ تھی - وہ مسکراہٹ جو لومڑی بکری کے بچے کو دیکھ کر دیتی ہے۔ "کیا حال ہے؟ سنا ہے تیری بیوی بیمار ہے؟" سیٹھ کی آواز میں ہمدردی کی جھوٹی تہہ تھی۔ اُس کے الفاظ شہد میں لپٹے ہوئے زہر کی طرح تھے۔ "جی سیٹھ جی، اللہ کا کرم ہے۔" شبیر نے جھک کر کہا۔ اُس کی کمر خودبخود جھک گئی، جیسے برسوں کی غلامی نے اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں جھکنا سکھا دیا ہو۔ "اللہ کا کرم؟" سیٹھ نے قہقہہ لگایا، وہ قہقہہ جو کانوں میں کیل کی طرح چبھتا تھا۔ "بھائی، اللہ تو اُن کا کرم کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ دیکھ، میرے پاس تیرے لیے ایک کام ہے۔" شبیر کے کان کھڑے ہوئے۔ کام کا لفظ اُس کے کانوں میں شہد کی طرح میٹھا لگا، مگر اُسے احساس نہیں تھا کہ یہ شہد کسی زہریلے پھول سے چھنا ہوا تھا۔ "کیا کام سیٹھ جی؟" "بس ایک چھوٹا سا کام۔" سیٹھ نے آواز نیچی کی، جیسے کوئی شیطان کسی کے کان میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ "تجھے پتا ہے نا کہ پٹواری رام پرکاش میری زمین کے کاغذات میں اُلجھن پیدا کر رہا ہے؟ بس تجھے اُس کے گھر جا کر کچھ کاغذات لانے ہیں۔ رات کو، جب وہ سویا ہو۔" شبیر کا دل ڈوب گیا۔ اُسے لگا جیسے اُس کے پیٹ میں سیسے کا ایک گولہ گرا ہو۔ "یہ تو... یہ تو چوری ہے سیٹھ جی۔" "چوری؟" سیٹھ نے تھوک دیا۔ "یہ تو اپنا حق واپس لینا ہے۔ اور دیکھ، میں تجھے پانچ ہزار روپے دوں گا۔ تیری بیوی کا علاج ہو جائے گا، بچی کو کھانا مل جائے گا۔" پانچ ہزار روپے۔ یہ لفظ شبیر کے دماغ میں گونجنے لگے۔ پانچ ہزار روپے یعنی ثمینہ کی دوا، سائرہ کی کتابیں، گھر میں آٹا، دال، تیل۔ یہ لفظ ایک جادوئی منتر کی طرح اُس کے ذہن میں گھومنے لگے۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے سائرہ کا چہرہ گھومنے لگا - وہ چہرہ جو بھوک سے پیلا پڑ گیا تھا۔ ثمینہ کی کھانسی اُس کے کانوں میں گونجنے لگی - وہ کھانسی جو رات بھر اُسے سونے نہیں دیتی تھی۔ "مگر سیٹھ جی..." شبیر کی زبان لڑکھڑائی۔ اُس کے دل اور دماغ میں جنگ چھڑ گئی۔ دل کہہ رہا تھا "نہیں"، مگر دماغ کہہ رہا تھا "کیوں نہیں؟" "مگر مگر کچھ نہیں۔" سیٹھ نے سختی سے کہا۔ اُس کی آواز ایک کوڑے کی طرح شبیر کے چہرے پر پڑی۔ "دیکھ شبیر، زندگی میں موقعے بار بار نہیں آتے۔ تو فیصلہ کر، تجھے اپنے اصولوں کی بھوک میں مرنا ہے یا اپنے بچوں کو بچانا ہے؟" شبیر خاموش کھڑا رہا۔ مسجد کی مینار سے اذان کی آواز آ رہی تھی، مگر اُسے لگ رہا تھا کہ یہ آواز کسی دوسری دنیا سے آ رہی ہے، جہاں اُس کی رسائی نہیں۔ اذان کے الفاظ "حیّ علی الفلاح" - کامیابی کی طرف آؤ - اُس کے کانوں میں گونج رہے تھے، مگر وہ جانتا تھا کہ وہ کسی اور راستے پر جا رہا ہے۔ اُس نے سیٹھ کی طرف دیکھا۔ سیٹھ کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی - وہ چمک جو ایک مچھلیارے کی آنکھوں میں ہوتی ہے جب مچھلی کانٹے کو نگل لیتی ہے۔ "ٹھیک ہے سیٹھ جی۔" شبیر نے آہستہ سے کہا۔ یہ الفاظ اُس کی زبان سے نکلے تو اُسے لگا جیسے اُس نے اپنی روح کو بیچ دیا ہو۔ سیٹھ مسکرایا۔ یہ مسکراہٹ شیطان کی فتح کی مسکراہٹ تھی۔ اُس رات شبیر نے پٹواری کے گھر کی چھت کودی۔ چاند آسمان پر لٹکا ہوا تھا جیسے کوئی مردہ آنکھ۔ اُس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اُسے لگا کہ یہ آواز پوری گلی میں گونج رہی ہوگی۔ اُس کے دل کی دھڑکن ایک جنگی ڈرم کی طرح بج رہی تھی - تیز، خوفناک، شرمناک۔ کھڑکی کھلی تھی۔ اندر پٹواری خراٹے لے رہا تھا۔ شبیر کو لگا کہ وہ کسی کی قبر میں اترنے جا رہا ہے۔ ہر قدم کے ساتھ اُس کا ضمیر چیخ رہا تھا، مگر ضرورت کا شور اُس چیخ کو دبا دیتا تھا۔ شبیر نے کانپتے ہاتھوں سے المیرہ کھولا۔ اُس کے ہاتھ ایسے کانپ رہے تھے جیسے ملیریا کے بخار میں جسم کانپتا ہے۔ اُس نے کاغذات نکالنے شروع کیے۔ عین اُسی لمحے پٹواری کی آنکھ کھل گئی۔ "کون ہے؟" اُس نے چیخ کر کہا۔ اُس کی آواز رات کی خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی۔ شبیر کا خون خشک ہو گیا۔ وہ مجسمے کی طرح جم گیا۔ پٹواری نے لائٹ جلائی اور شبیر کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ "شبیر؟ تو؟" اُس کی آواز میں حیرت اور مایوسی تھی - وہ مایوسی جو کسی پر اعتماد کرنے والا محسوس کرتا ہے جب وہ دھوکا کھاتا ہے۔ "میں... میں..." شبیر کی زبان سے الفاظ نہیں نکلے۔ اُس کی زبان رُوئی بن گئی تھی۔ پٹواری نے فون اٹھایا۔ "پولیس کو فون کرتا ہوں۔" اُس لمحے شبیر کی آنکھوں کے سامنے سارے مناظر ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔ سائرہ کا چہرہ - وہ چہرہ جو بھوک سے سوکھ گیا تھا۔ ثمینہ کی کھانسی - وہ کھانسی جو اُس کی جان لے رہی تھی۔ گھر کی خالی الماریاں۔ چولہے کی ٹھنڈی راکھ۔ اور پھر جیل کی سلاخیں اُس کی آنکھوں کے سامنے آ گئیں۔ اور پھر اُس نے وہ کیا جو اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اُس کے اندر کا کوئی جانور جاگ گیا - وہ جانور جو ہر انسان کے اندر قید ہوتا ہے اور خوف کے وقت باہر آ جاتا ہے۔ اُس نے پٹواری کو دھکا دیا۔ پٹواری لڑکھڑایا اور دیوار سے ٹکرا کر گر گیا۔ اُس کا سر پتھر کے فرش سے ایسے ٹکرایا جیسے کوئی پکا ہوا پھل درخت سے گرتا ہے۔ خون کا ایک سرخ فوارہ پھوٹ پڑا، جیسے زمین کے نیچے سے کوئی چشمہ پھوٹ رہا ہو۔ شبیر کھڑا رہ گیا۔ پٹواری ہل نہیں رہا تھا۔ اُس کی آنکھیں کھلی تھیں، مگر اُن میں زندگی نہیں تھی۔ وہ آنکھیں اب دو خالی کنوئیں بن گئی تھیں۔ شبیر کے ہاتھ لرزنے لگے۔ اُس نے پٹواری کو ہلایا، مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ خون کا دھبہ پھیلتا جا رہا تھا، جیسے کوئی سرخ پھول کھل رہا ہو۔ فرش پر خون ایک چھوٹی ندی کی طرح بہنے لگا۔ شبیر کی سانس رک گئی۔ اُسے لگا کہ کمرے کی ہوا بھاری ہو گئی ہے، جیسے موت نے کمرے میں اپنا ڈیرا ڈال دیا ہو۔ اُس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ یہ وہی ہاتھ تھے جو قرآن کے صفحات پلٹتے تھے۔ آج یہ ہاتھ ایک انسان کی موت کا سبب بن گئے تھے۔ شبیر بھاگا۔ وہ سارا راستہ بھاگتا رہا۔ اُس کے کانوں میں پٹواری کے سر کے ٹکرانے کی آواز گونج رہی تھی۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے خون کا وہ سرخ فوارہ پھوٹتا رہا۔ اُس کے ہاتھوں میں موت کی ٹھنڈک تھی۔ گھر پہنچ کر شبیر نے کاغذات سیٹھ کے پاس پہنچا دیے۔ سیٹھ نے مسکراتے ہوئے پانچ ہزار روپے اُس کے ہاتھ میں رکھے۔ "شاباش! میں جانتا تھا کہ تو کر لے گا۔" سیٹھ کی آنکھوں میں جیت کی چمک تھی۔ شبیر نے نوٹوں کو دیکھا۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے اُسے خون میں لت پت نظر آئے۔ ہر نوٹ پر اُسے پٹواری کا چہرہ نظر آیا۔ ہر نوٹ سے خون کی بو آ رہی تھی۔ اُس نے روپے گھر لا کر آٹا، دوائیں اور کھانا خریدا۔ سائرہ نے خوش ہو کر روٹی کھائی۔ اُس کے چہرے پر خوشی کی ایک مدھم سی لہر دوڑ گئی۔ ثمینہ نے دوا پی لی اور تھوڑا سکون سے سانس لیا۔ مگر شبیر کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اُسے لگ رہا تھا کہ وہ روٹی نہیں، پتھر نگل رہا ہے۔ ہر لقمہ اُس کے حلق میں پھنستا تھا۔ ہر سانس میں موت کی بو تھی۔ اگلے دن پولیس نے پٹواری کی لاش برآمد کی۔ پورا گاؤں اُس کے گھر کے باہر جمع تھا۔ شبیر بھی وہاں کھڑا تھا، لوگوں کی طرح افسوس کرتا ہوا۔ مگر اُس کا دل اپنے سینے میں اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اُسے لگا کہ سب لوگ سن رہے ہوں گے۔ اُس کا دل ایک بے قابو گھوڑے کی طرح اُس کے سینے میں بھاگ رہا تھا۔ "بڑا نیک آدمی تھا پٹواری جی۔" کسی نے کہا۔ "اللہ قاتل کو سزا دے۔" کسی اور نے کہا۔ یہ الفاظ شبیر کے کانوں میں تیروں کی طرح چبھے۔ اُسے لگا کہ یہ الفاظ اُسی کے لیے کہے جا رہے ہیں۔ شبیر خاموشی سے کھڑا رہا۔ اُس کے چہرے پر افسوس کا نقاب تھا، مگر اندر گناہ کا طوفان تھا۔ ہفتہ گزر گیا۔ پولیس تفتیش کر رہی تھی۔ شبیر ہر رات کابوس دیکھتا۔ پٹواری کا چہرہ اُسے ہر جگہ نظر آتا۔ دیوار پر، چھت پر، آئینے میں۔ کھانے کی پلیٹ میں۔ پانی کے گلاس میں۔ سائرہ کی آنکھوں میں۔ رات کو جب وہ آنکھیں بند کرتا، تو پٹواری کا سر بار بار فرش سے ٹکراتا۔ خون کا فوارہ بار بار پھوٹتا۔ وہ چیخ کر اٹھ جاتا۔ پسینے میں شرابور۔ سانس پھولی ہوئی۔ ثمینہ پوچھتی، "کیا ہوا؟" "کچھ نہیں۔ بس خواب تھا۔" شبیر کہتا، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ خواب نہیں، حقیقت تھی۔ ایک دن سیٹھ منشا رام پھر اُس کے پاس آیا۔ "شبیر، ایک اور کام ہے۔" شبیر کا دل بیٹھ گیا۔ اُسے لگا کہ زمین اُس کے پاؤں تلے سے کھسک گئی ہے۔ "نہیں سیٹھ جی، میں نہیں کروں گا۔" "نہیں کرے گا؟" سیٹھ نے آنکھیں سرخ کیں۔ اُس کی آنکھیں دو انگاروں کی طرح دہکنے لگیں۔ "تجھے یاد ہے کہ پٹواری کے گھر کون گیا تھا؟ اگر تو نے یہ کام نہیں کیا تو میں پولیس کو بتا دوں گا۔" شبیر کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ اُسے لگا کہ وہ ایک گہری کھائی میں گر رہا ہے۔ "آپ نے تو کہا تھا کہ..." "میں نے کہا تھا؟" سیٹھ نے قہقہہ لگایا۔ یہ قہقہہ کسی شیطان کی ہنسی کی طرح تھا۔ "میرے پاس تو کوئی ثبوت نہیں۔ مگر تیرے ہاتھوں کے نشانات اُس المیرہ پر ہیں۔ تیری چپل کا نشان اُس گھر میں ہے۔ تیرے بال اُس کمرے میں ملے ہیں۔ دیکھ شبیر، اب تو میرا آدمی ہے۔ میرا غلام۔ سمجھا؟" شبیر کو لگا جیسے اُس کے گلے میں کوئی پھندا کس گیا ہو۔ وہ پھندا جو ہر سانس کے ساتھ اور تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ دلدل میں اور گہرا دھنس گیا ہے۔ اب اُس کا منہ بھی ڈوبنے والا ہے۔ اُس کے بعد شبیر سیٹھ کا پیادہ بن گیا۔ اُس کا پتلا۔ اُس کا آلہ کار۔ کبھی کسی کو دھمکانا، کبھی کسی کی فصل میں آگ لگانا، کبھی کسی کو زد میں لانا۔ ہر گناہ کے بعد سیٹھ اُسے کچھ روپے دیتا۔ اور ہر بار شبیر اُن روپوں سے گھر میں راشن لاتا۔ ہر نوٹ پر کسی کے آنسوؤں کی نمی تھی۔ ہر روپے میں کسی کی لعنت کی بو تھی۔ سائرہ بڑی ہو رہی تھی۔ ثمینہ کی صحت بہتر ہو رہی تھی۔ مگر شبیر کی روح مر رہی تھی۔ وہ ایک چلتا پھرتا لاش بن گیا تھا۔ رات کو جب وہ سوتا تو کابوس دیکھتا۔ پٹواری کا چہرہ، خون کا دھبہ، اور پھر اُن تمام لوگوں کے چہرے جنہیں اُس نے تکلیف پہنچائی تھی۔ وہ چہرے جو اُس کے خوابوں میں آ کر اُس پر لعنت بھیجتے تھے۔ شبیر کا وزن کم ہوتا گیا۔ اُس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے۔ اُس کے چہرے پر موت کا رنگ چڑھنے لگا۔ ایک دن گاؤں میں ایک نیا استاد آیا۔ اُس کا نام عارف تھا۔ وہ بچوں کو پڑھاتا اور شام کو مسجد میں درس دیتا۔ اُس کی آواز میں ایک نور تھا، ایک سکون تھا۔ شبیر ایک دن اُس کے درس میں بیٹھ گیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ کیوں بیٹھا۔ شاید اُس کی روح کسی روشنی کی تلاش میں تھی۔ "اللہ رحم کرنے والا ہے۔" عارف کہہ رہا تھا۔ اُس کی آواز کمرے میں ایسے گونج رہی تھی جیسے کوئی چشمہ بہہ رہا ہو۔ "مگر وہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ گناہ سے بڑا کوئی گناہ نہیں، مگر توبہ نہ کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ دلدل میں گرنا انسانی کمزوری ہے، مگر اُس میں رہنا انتخاب ہے۔" شبیر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ برسوں بعد پہلی بار اُس کی آنکھیں بھیگیں۔ یہ آنسو سوکھی دھرتی پر بارش کی پہلی بوندوں کی طرح تھے۔ درس کے بعد وہ عارف کے پاس گیا۔ "استاد صاحب، اگر کوئی... کوئی بہت بڑا گناہ کر بیٹھے، ایسا گناہ جس کی کوئی معافی نہیں، تو کیا اُس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟" شبیر کی آواز کانپ رہی تھی۔ عارف نے شبیر کی آنکھوں میں دیکھا۔ اُن آنکھوں میں ایک گہری فہم تھی۔ "بھائی، اللہ کی رحمت لامتناہی ہے۔ مگر توبہ صرف زبان سے نہیں، دل سے ہوتی ہے۔ اور سچی توبہ کا مطلب ہے کہ تم اُس گناہ کا راستہ چھوڑ دو، اُس کے نتائج کا سامنا کرو، اور اپنی اصلاح کر لو۔ دیکھو، دلدل سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے - حرکت کرنا بند کر دو اور مدد مانگو۔" "مگر نتائج؟ اگر نتائج بہت بھاری ہوں؟" "بھائی، نتائج سے بھاگنا دلدل میں اور گہرا دھنسنا ہے۔ سچا مرد وہ ہے جو اپنی غلطی کا بوجھ اٹھائے۔ ہاں، راستہ مشکل ہے، مگر یہی راستہ تہارے اندر کے انسان کو بچائے گا۔ باہر کی سزا عارضی ہے، اندر کی موت مستقل۔" شبیر گھر لوٹا۔ اُس رات اُسے نیند نہیں آئی۔ وہ سوچتا رہا۔ اُس کے ذہن میں دو راستے تھے۔ ایک راستہ - سیٹھ کی غلامی میں جینا، اپنی روح کو مارنا، اپنے بچوں کو خون کے پیسوں سے پالنا۔ دوسرا راستہ - سچ کا سامنا کرنا، سزا بھگتنا، مگر اپنی انسانیت کو بچانا۔ صبح جب اُس نے سائرہ کو دیکھا، تو اُسے ایک سوال نے گھیر لیا: "کیا میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی ایک قاتل کی بیٹی کے طور پر بڑی ہو؟ یا ایک ایسے باپ کی بیٹی جس نے اپنی غلطی کا بوجھ اٹھایا؟" اگلے دن سیٹھ پھر آیا۔ "شبیر، آج تجھے چوہدری حامد کی فصل میں..." سیٹھ کی آواز میں وہی حکم تھا۔ "نہیں۔" شبیر نے کہا۔ اُس کی آواز میں پہلی بار مضبوطی تھی۔ "کیا؟" سیٹھ کے کان کھڑے ہوئے۔ "میں نے کہا نہیں۔ میں یہ کام نہیں کروں گا۔ میں کوئی کام نہیں کروں گا۔" سیٹھ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اُس کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ "تو پھر تیار رہ۔ میں پولیس کو..." "جائیں۔" شبیر نے پہلی بار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ "جا کر بتا دیں۔ میں خود بھی جا رہا ہوں۔ میں دلدل سے نکلنا چاہتا ہوں۔ چاہے مجھے اُس میں سے نکلنے کے لیے اپنی جلد ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔" سیٹھ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ حیران رہ گیا۔ شبیر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ سیدھا تھانے کی طرف چل پڑا۔ تھانے میں جب شبیر نے اپنا جرم قبول کیا تو انسپکٹر حیران رہ گیا۔ "تم جانتے ہو کہ اِس کا مطلب کیا ہے؟" انسپکٹر نے پوچھا۔ "جانتا ہوں۔" شبیر نے کہا۔ اُس کی آواز میں ایک عجیب سکون تھا۔ "مگر میں اور نہیں جی سکتا تھا۔ میں زندہ لاش بن گیا تھا۔ کم از کم اب میں ایک انسان کی طرح مروں گا۔" اُس نے سب کچھ بتا دیا۔ سیٹھ کے بارے میں، پٹواری کے قتل کے بارے میں، اور تمام کاموں کے بارے میں۔ ہر لفظ اُس کے سینے سے ایک پتھر ہٹاتا گیا۔ پولیس نے سیٹھ منشا رام کو گرفتار کر لیا۔ مگر سیٹھ کے وکیل طاقتور تھے۔ وہ دو دن میں ضمانت پر باہر آ گیا۔ اُس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی۔ اُس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی۔ شبیر جیل میں رہا۔ دلدل کا قانون یہی ہے - جو کمزور ہے وہ ڈوبتا ہے، جو طاقتور ہے وہ بچ نکلتا ہے۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے شبیر کو پہلی بار سکون ملا۔ یہ سکون عجیب تھا - دردناک مگر حقیقی۔ اُسے لگا کہ وہ کسی دلدل سے نکل کر ایک چٹان پر آ گیا ہے، چاہے یہ چٹان جیل کی ہو۔ رات کو جب وہ سوتا، تو اب بھی پٹواری کا چہرہ نظر آتا، مگر اب وہ چہرہ اُسے ملامت نہیں کرتا تھا۔ وہ چہرہ خاموش تھا، جیسے انتظار کر رہا ہو کہ شبیر اپنا قرض ادا کرے۔ #MisS__ShèIkh
تحریر نمبر 11 موضوع :ـ دلدل افسانہ رات کی سیاہی اُس گاؤں پر یوں چھائی ہوئی تھی جیسے کسی نے آسمان کو کالے کفن میں لپیٹ دیا ہو۔ گلی کے کونے میں واقع ٹوٹے پھوٹے مکان کی کھڑکی سے ایک مدھم سی روشنی رِس رہی تھی، جو اندھیرے کے سمندر میں ڈوبتی ہوئی کشتی کی طرح بے بس نظر آتی تھی۔ شبیر اُس روشنی کے قریب بیٹھا اپنے ہاتھوں کو گھور رہا تھا۔ یہ وہی ہاتھ تھے جو کبھی صبح کی نماز کے بعد قرآن کے صفحات پلٹتے تھے، آج اُن پر سیاہی کی ایسی تہہ جم گئی تھی جسے وضو کے پانی سے دھویا نہیں جا سکتا تھا۔ یہ ہاتھ اب اُس کے نہیں رہے تھے - یہ کسی اور کے تھے، کسی اجنبی کے، جو رات کی تاریکی میں گناہ کے بیج بوتے تھے۔ "ابو! روٹی..." چھوٹی سائرہ کی کمزور آواز نے اس کے خیالات کی زنجیر توڑی۔ شبیر نے اپنی چھ سالہ بیٹی کی طرف دیکھا۔ بھوک نے اُس کے گالوں کو اندر کی طرف دھکیل دیا تھا اور آنکھوں میں وہ چمک نہیں رہی تھی جو بچپن کا حق ہوتی ہے۔ اُس کی آنکھیں دو خشک کنوؤں کی طرح تھیں جن میں امید کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں بچا تھا۔ کونے میں پڑے بستر پر اس کی بیوی ثمینہ کھانسی کے دورے میں لڑ رہی تھی۔ ٹی بی نے اُس کے پھیپھڑوں کو ایسے چاٹا تھا جیسے زنگ لوہے کو کھا جاتا ہے۔ اُس کی ہر سانس ایک آری کی طرح اُس کے سینے کو چیرتی تھی۔ "بس پتری، ابھی بناتا ہوں۔" شبیر نے کہا، مگر اُس کی آواز میں وہ یقین نہیں تھا جو باپ کی آواز میں ہونا چاہیے۔ اُس کے الفاظ خالی خول کی طرح تھے - بغیر روح کے، بغیر وزن کے۔ آٹے کا ڈبہ خالی تھا۔ چولہے کے پاس پڑی لکڑیاں گیلی تھیں۔ گھر کے ہر کونے سے مفلسی کی بو آ رہی تھی، وہ بو جو انسان کی روح کو گلا دیتی ہے۔ دیواروں پر گزری ہوئی خوشیوں کے نشانات ایسے مٹ رہے تھے جیسے بارش میں ریت پر بنی تصویریں۔ شبیر باہر نکلا۔ گلی میں مٹی کا وہ راستہ تھا جو بارش میں دلدل بن جاتا تھا۔ آج بارش نہیں ہو رہی تھی، مگر شبیر کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ خود ایک ایسی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ ہر قدم کے ساتھ وہ گہرا اور گہرا دھنستا جا رہا تھا، اور جتنا وہ نکلنے کی کوشش کرتا، دلدل اُسے اتنی ہی مضبوطی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ صبح کی اذان کے وقت شبیر مسجد کے باہر کھڑا تھا، مگر اندر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ مسجد کا دروازہ اُسے کسی عدالت کے دروازے کی طرح لگ رہا تھا، جہاں اُس کے گناہوں کا فیصلہ ہونا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جب وہ سجدے میں جائے گا تو اللہ سے کیا مانگے گا؟ روٹی؟ دوا؟ یا معافی؟ اُس کے سینے میں دل ایک ٹوٹی ہوئی گھڑی کی طرح دھڑک رہا تھا - بے ترتیب، بے سمت، بے معنی۔ "بھئی شبیر!" پیچھے سے آواز آئی۔ شبیر نے مڑ کر دیکھا۔ سیٹھ منشا رام اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ یہ وہی سیٹھ تھا جس کی زمینوں پر شبیر کبھی مزدوری کرتا تھا۔ اُس کی مسکراہٹ ایک شکاری کی مسکراہٹ تھی - وہ مسکراہٹ جو لومڑی بکری کے بچے کو دیکھ کر دیتی ہے۔ "کیا حال ہے؟ سنا ہے تیری بیوی بیمار ہے؟" سیٹھ کی آواز میں ہمدردی کی جھوٹی تہہ تھی۔ اُس کے الفاظ شہد میں لپٹے ہوئے زہر کی طرح تھے۔ "جی سیٹھ جی، اللہ کا کرم ہے۔" شبیر نے جھک کر کہا۔ اُس کی کمر خودبخود جھک گئی، جیسے برسوں کی غلامی نے اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں جھکنا سکھا دیا ہو۔ "اللہ کا کرم؟" سیٹھ نے قہقہہ لگایا، وہ قہقہہ جو کانوں میں کیل کی طرح چبھتا تھا۔ "بھائی، اللہ تو اُن کا کرم کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ دیکھ، میرے پاس تیرے لیے ایک کام ہے۔" شبیر کے کان کھڑے ہوئے۔ کام کا لفظ اُس کے کانوں میں شہد کی طرح میٹھا لگا، مگر اُسے احساس نہیں تھا کہ یہ شہد کسی زہریلے پھول سے چھنا ہوا تھا۔ "کیا کام سیٹھ جی؟" "بس ایک چھوٹا سا کام۔" سیٹھ نے آواز نیچی کی، جیسے کوئی شیطان کسی کے کان میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ "تجھے پتا ہے نا کہ پٹواری رام پرکاش میری زمین کے کاغذات میں اُلجھن پیدا کر رہا ہے؟ بس تجھے اُس کے گھر جا کر کچھ کاغذات لانے ہیں۔ رات کو، جب وہ سویا ہو۔" شبیر کا دل ڈوب گیا۔ اُسے لگا جیسے اُس کے پیٹ میں سیسے کا ایک گولہ گرا ہو۔ "یہ تو... یہ تو چوری ہے سیٹھ جی۔" "چوری؟" سیٹھ نے تھوک دیا۔ "یہ تو اپنا حق واپس لینا ہے۔ اور دیکھ، میں تجھے پانچ ہزار روپے دوں گا۔ تیری بیوی کا علاج ہو جائے گا، بچی کو کھانا مل جائے گا۔" پانچ ہزار روپے۔ یہ لفظ شبیر کے دماغ میں گونجنے لگے۔ پانچ ہزار روپے یعنی ثمینہ کی دوا، سائرہ کی کتابیں، گھر میں آٹا، دال، تیل۔ یہ لفظ ایک جادوئی منتر کی طرح اُس کے ذہن میں گھومنے لگے۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے سائرہ کا چہرہ گھومنے لگا - وہ چہرہ جو بھوک سے پیلا پڑ گیا تھا۔ ثمینہ کی کھانسی اُس کے کانوں میں گونجنے لگی - وہ کھانسی جو رات بھر اُسے سونے نہیں دیتی تھی۔ "مگر سیٹھ جی..." شبیر کی زبان لڑکھڑائی۔ اُس کے دل اور دماغ میں جنگ چھڑ گئی۔ دل کہہ رہا تھا "نہیں"، مگر دماغ کہہ رہا تھا "کیوں نہیں؟" "مگر مگر کچھ نہیں۔" سیٹھ نے سختی سے کہا۔ اُس کی آواز ایک کوڑے کی طرح شبیر کے چہرے پر پڑی۔ "دیکھ شبیر، زندگی میں موقعے بار بار نہیں آتے۔ تو فیصلہ کر، تجھے اپنے اصولوں کی بھوک میں مرنا ہے یا اپنے بچوں کو بچانا ہے؟" شبیر خاموش کھڑا رہا۔ مسجد کی مینار سے اذان کی آواز آ رہی تھی، مگر اُسے لگ رہا تھا کہ یہ آواز کسی دوسری دنیا سے آ رہی ہے، جہاں اُس کی رسائی نہیں۔ اذان کے الفاظ "حیّ علی الفلاح" - کامیابی کی طرف آؤ - اُس کے کانوں میں گونج رہے تھے، مگر وہ جانتا تھا کہ وہ کسی اور راستے پر جا رہا ہے۔ اُس نے سیٹھ کی طرف دیکھا۔ سیٹھ کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی - وہ چمک جو ایک مچھلیارے کی آنکھوں میں ہوتی ہے جب مچھلی کانٹے کو نگل لیتی ہے۔ "ٹھیک ہے سیٹھ جی۔" شبیر نے آہستہ سے کہا۔ یہ الفاظ اُس کی زبان سے نکلے تو اُسے لگا جیسے اُس نے اپنی روح کو بیچ دیا ہو۔ سیٹھ مسکرایا۔ یہ مسکراہٹ شیطان کی فتح کی مسکراہٹ تھی۔ اُس رات شبیر نے پٹواری کے گھر کی چھت کودی۔ چاند آسمان پر لٹکا ہوا تھا جیسے کوئی مردہ آنکھ۔ اُس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اُسے لگا کہ یہ آواز پوری گلی میں گونج رہی ہوگی۔ اُس کے دل کی دھڑکن ایک جنگی ڈرم کی طرح بج رہی تھی - تیز، خوفناک، شرمناک۔ کھڑکی کھلی تھی۔ اندر پٹواری خراٹے لے رہا تھا۔ شبیر کو لگا کہ وہ کسی کی قبر میں اترنے جا رہا ہے۔ ہر قدم کے ساتھ اُس کا ضمیر چیخ رہا تھا، مگر ضرورت کا شور اُس چیخ کو دبا دیتا تھا۔ شبیر نے کانپتے ہاتھوں سے المیرہ کھولا۔ اُس کے ہاتھ ایسے کانپ رہے تھے جیسے ملیریا کے بخار میں جسم کانپتا ہے۔ اُس نے کاغذات نکالنے شروع کیے۔ عین اُسی لمحے پٹواری کی آنکھ کھل گئی۔ "کون ہے؟" اُس نے چیخ کر کہا۔ اُس کی آواز رات کی خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی۔ شبیر کا خون خشک ہو گیا۔ وہ مجسمے کی طرح جم گیا۔ پٹواری نے لائٹ جلائی اور شبیر کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ "شبیر؟ تو؟" اُس کی آواز میں حیرت اور مایوسی تھی - وہ مایوسی جو کسی پر اعتماد کرنے والا محسوس کرتا ہے جب وہ دھوکا کھاتا ہے۔ "میں... میں..." شبیر کی زبان سے الفاظ نہیں نکلے۔ اُس کی زبان رُوئی بن گئی تھی۔ پٹواری نے فون اٹھایا۔ "پولیس کو فون کرتا ہوں۔" اُس لمحے شبیر کی آنکھوں کے سامنے سارے مناظر ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔ سائرہ کا چہرہ - وہ چہرہ جو بھوک سے سوکھ گیا تھا۔ ثمینہ کی کھانسی - وہ کھانسی جو اُس کی جان لے رہی تھی۔ گھر کی خالی الماریاں۔ چولہے کی ٹھنڈی راکھ۔ اور پھر جیل کی سلاخیں اُس کی آنکھوں کے سامنے آ گئیں۔ اور پھر اُس نے وہ کیا جو اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اُس کے اندر کا کوئی جانور جاگ گیا - وہ جانور جو ہر انسان کے اندر قید ہوتا ہے اور خوف کے وقت باہر آ جاتا ہے۔ اُس نے پٹواری کو دھکا دیا۔ پٹواری لڑکھڑایا اور دیوار سے ٹکرا کر گر گیا۔ اُس کا سر پتھر کے فرش سے ایسے ٹکرایا جیسے کوئی پکا ہوا پھل درخت سے گرتا ہے۔ خون کا ایک سرخ فوارہ پھوٹ پڑا، جیسے زمین کے نیچے سے کوئی چشمہ پھوٹ رہا ہو۔ شبیر کھڑا رہ گیا۔ پٹواری ہل نہیں رہا تھا۔ اُس کی آنکھیں کھلی تھیں، مگر اُن میں زندگی نہیں تھی۔ وہ آنکھیں اب دو خالی کنوئیں بن گئی تھیں۔ شبیر کے ہاتھ لرزنے لگے۔ اُس نے پٹواری کو ہلایا، مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ خون کا دھبہ پھیلتا جا رہا تھا، جیسے کوئی سرخ پھول کھل رہا ہو۔ فرش پر خون ایک چھوٹی ندی کی طرح بہنے لگا۔ شبیر کی سانس رک گئی۔ اُسے لگا کہ کمرے کی ہوا بھاری ہو گئی ہے، جیسے موت نے کمرے میں اپنا ڈیرا ڈال دیا ہو۔ اُس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ یہ وہی ہاتھ تھے جو قرآن کے صفحات پلٹتے تھے۔ آج یہ ہاتھ ایک انسان کی موت کا سبب بن گئے تھے۔ شبیر بھاگا۔ وہ سارا راستہ بھاگتا رہا۔ اُس کے کانوں میں پٹواری کے سر کے ٹکرانے کی آواز گونج رہی تھی۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے خون کا وہ سرخ فوارہ پھوٹتا رہا۔ اُس کے ہاتھوں میں موت کی ٹھنڈک تھی۔ گھر پہنچ کر شبیر نے کاغذات سیٹھ کے پاس پہنچا دیے۔ سیٹھ نے مسکراتے ہوئے پانچ ہزار روپے اُس کے ہاتھ میں رکھے۔ "شاباش! میں جانتا تھا کہ تو کر لے گا۔" سیٹھ کی آنکھوں میں جیت کی چمک تھی۔ شبیر نے نوٹوں کو دیکھا۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے اُسے خون میں لت پت نظر آئے۔ ہر نوٹ پر اُسے پٹواری کا چہرہ نظر آیا۔ ہر نوٹ سے خون کی بو آ رہی تھی۔ اُس نے روپے گھر لا کر آٹا، دوائیں اور کھانا خریدا۔ سائرہ نے خوش ہو کر روٹی کھائی۔ اُس کے چہرے پر خوشی کی ایک مدھم سی لہر دوڑ گئی۔ ثمینہ نے دوا پی لی اور تھوڑا سکون سے سانس لیا۔ مگر شبیر کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اُسے لگ رہا تھا کہ وہ روٹی نہیں، پتھر نگل رہا ہے۔ ہر لقمہ اُس کے حلق میں پھنستا تھا۔ ہر سانس میں موت کی بو تھی۔ اگلے دن پولیس نے پٹواری کی لاش برآمد کی۔ پورا گاؤں اُس کے گھر کے باہر جمع تھا۔ شبیر بھی وہاں کھڑا تھا، لوگوں کی طرح افسوس کرتا ہوا۔ مگر اُس کا دل اپنے سینے میں اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اُسے لگا کہ سب لوگ سن رہے ہوں گے۔ اُس کا دل ایک بے قابو گھوڑے کی طرح اُس کے سینے میں بھاگ رہا تھا۔ "بڑا نیک آدمی تھا پٹواری جی۔" کسی نے کہا۔ "اللہ قاتل کو سزا دے۔" کسی اور نے کہا۔ یہ الفاظ شبیر کے کانوں میں تیروں کی طرح چبھے۔ اُسے لگا کہ یہ الفاظ اُسی کے لیے کہے جا رہے ہیں۔ شبیر خاموشی سے کھڑا رہا۔ اُس کے چہرے پر افسوس کا نقاب تھا، مگر اندر گناہ کا طوفان تھا۔ ہفتہ گزر گیا۔ پولیس تفتیش کر رہی تھی۔ شبیر ہر رات کابوس دیکھتا۔ پٹواری کا چہرہ اُسے ہر جگہ نظر آتا۔ دیوار پر، چھت پر، آئینے میں۔ کھانے کی پلیٹ میں۔ پانی کے گلاس میں۔ سائرہ کی آنکھوں میں۔ رات کو جب وہ آنکھیں بند کرتا، تو پٹواری کا سر بار بار فرش سے ٹکراتا۔ خون کا فوارہ بار بار پھوٹتا۔ وہ چیخ کر اٹھ جاتا۔ پسینے میں شرابور۔ سانس پھولی ہوئی۔ ثمینہ پوچھتی، "کیا ہوا؟" "کچھ نہیں۔ بس خواب تھا۔" شبیر کہتا، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ خواب نہیں، حقیقت تھی۔ ایک دن سیٹھ منشا رام پھر اُس کے پاس آیا۔ "شبیر، ایک اور کام ہے۔" شبیر کا دل بیٹھ گیا۔ اُسے لگا کہ زمین اُس کے پاؤں تلے سے کھسک گئی ہے۔ "نہیں سیٹھ جی، میں نہیں کروں گا۔" "نہیں کرے گا؟" سیٹھ نے آنکھیں سرخ کیں۔ اُس کی آنکھیں دو انگاروں کی طرح دہکنے لگیں۔ "تجھے یاد ہے کہ پٹواری کے گھر کون گیا تھا؟ اگر تو نے یہ کام نہیں کیا تو میں پولیس کو بتا دوں گا۔" شبیر کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ اُسے لگا کہ وہ ایک گہری کھائی میں گر رہا ہے۔ "آپ نے تو کہا تھا کہ..." "میں نے کہا تھا؟" سیٹھ نے قہقہہ لگایا۔ یہ قہقہہ کسی شیطان کی ہنسی کی طرح تھا۔ "میرے پاس تو کوئی ثبوت نہیں۔ مگر تیرے ہاتھوں کے نشانات اُس المیرہ پر ہیں۔ تیری چپل کا نشان اُس گھر میں ہے۔ تیرے بال اُس کمرے میں ملے ہیں۔ دیکھ شبیر، اب تو میرا آدمی ہے۔ میرا غلام۔ سمجھا؟" شبیر کو لگا جیسے اُس کے گلے میں کوئی پھندا کس گیا ہو۔ وہ پھندا جو ہر سانس کے ساتھ اور تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ دلدل میں اور گہرا دھنس گیا ہے۔ اب اُس کا منہ بھی ڈوبنے والا ہے۔ اُس کے بعد شبیر سیٹھ کا پیادہ بن گیا۔ اُس کا پتلا۔ اُس کا آلہ کار۔ کبھی کسی کو دھمکانا، کبھی کسی کی فصل میں آگ لگانا، کبھی کسی کو زد میں لانا۔ ہر گناہ کے بعد سیٹھ اُسے کچھ روپے دیتا۔ اور ہر بار شبیر اُن روپوں سے گھر میں راشن لاتا۔ ہر نوٹ پر کسی کے آنسوؤں کی نمی تھی۔ ہر روپے میں کسی کی لعنت کی بو تھی۔ سائرہ بڑی ہو رہی تھی۔ ثمینہ کی صحت بہتر ہو رہی تھی۔ مگر شبیر کی روح مر رہی تھی۔ وہ ایک چلتا پھرتا لاش بن گیا تھا۔ رات کو جب وہ سوتا تو کابوس دیکھتا۔ پٹواری کا چہرہ، خون کا دھبہ، اور پھر اُن تمام لوگوں کے چہرے جنہیں اُس نے تکلیف پہنچائی تھی۔ وہ چہرے جو اُس کے خوابوں میں آ کر اُس پر لعنت بھیجتے تھے۔ شبیر کا وزن کم ہوتا گیا۔ اُس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے۔ اُس کے چہرے پر موت کا رنگ چڑھنے لگا۔ ایک دن گاؤں میں ایک نیا استاد آیا۔ اُس کا نام عارف تھا۔ وہ بچوں کو پڑھاتا اور شام کو مسجد میں درس دیتا۔ اُس کی آواز میں ایک نور تھا، ایک سکون تھا۔ شبیر ایک دن اُس کے درس میں بیٹھ گیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ کیوں بیٹھا۔ شاید اُس کی روح کسی روشنی کی تلاش میں تھی۔ "اللہ رحم کرنے والا ہے۔" عارف کہہ رہا تھا۔ اُس کی آواز کمرے میں ایسے گونج رہی تھی جیسے کوئی چشمہ بہہ رہا ہو۔ "مگر وہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ گناہ سے بڑا کوئی گناہ نہیں، مگر توبہ نہ کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ دلدل میں گرنا انسانی کمزوری ہے، مگر اُس میں رہنا انتخاب ہے۔" شبیر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ برسوں بعد پہلی بار اُس کی آنکھیں بھیگیں۔ یہ آنسو سوکھی دھرتی پر بارش کی پہلی بوندوں کی طرح تھے۔ درس کے بعد وہ عارف کے پاس گیا۔ "استاد صاحب، اگر کوئی... کوئی بہت بڑا گناہ کر بیٹھے، ایسا گناہ جس کی کوئی معافی نہیں، تو کیا اُس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟" شبیر کی آواز کانپ رہی تھی۔ عارف نے شبیر کی آنکھوں میں دیکھا۔ اُن آنکھوں میں ایک گہری فہم تھی۔ "بھائی، اللہ کی رحمت لامتناہی ہے۔ مگر توبہ صرف زبان سے نہیں، دل سے ہوتی ہے۔ اور سچی توبہ کا مطلب ہے کہ تم اُس گناہ کا راستہ چھوڑ دو، اُس کے نتائج کا سامنا کرو، اور اپنی اصلاح کر لو۔ دیکھو، دلدل سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے - حرکت کرنا بند کر دو اور مدد مانگو۔" "مگر نتائج؟ اگر نتائج بہت بھاری ہوں؟" "بھائی، نتائج سے بھاگنا دلدل میں اور گہرا دھنسنا ہے۔ سچا مرد وہ ہے جو اپنی غلطی کا بوجھ اٹھائے۔ ہاں، راستہ مشکل ہے، مگر یہی راستہ تہارے اندر کے انسان کو بچائے گا۔ باہر کی سزا عارضی ہے، اندر کی موت مستقل۔" شبیر گھر لوٹا۔ اُس رات اُسے نیند نہیں آئی۔ وہ سوچتا رہا۔ اُس کے ذہن میں دو راستے تھے۔ ایک راستہ - سیٹھ کی غلامی میں جینا، اپنی روح کو مارنا، اپنے بچوں کو خون کے پیسوں سے پالنا۔ دوسرا راستہ - سچ کا سامنا کرنا، سزا بھگتنا، مگر اپنی انسانیت کو بچانا۔ صبح جب اُس نے سائرہ کو دیکھا، تو اُسے ایک سوال نے گھیر لیا: "کیا میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی ایک قاتل کی بیٹی کے طور پر بڑی ہو؟ یا ایک ایسے باپ کی بیٹی جس نے اپنی غلطی کا بوجھ اٹھایا؟" اگلے دن سیٹھ پھر آیا۔ "شبیر، آج تجھے چوہدری حامد کی فصل میں..." سیٹھ کی آواز میں وہی حکم تھا۔ "نہیں۔" شبیر نے کہا۔ اُس کی آواز میں پہلی بار مضبوطی تھی۔ "کیا؟" سیٹھ کے کان کھڑے ہوئے۔ "میں نے کہا نہیں۔ میں یہ کام نہیں کروں گا۔ میں کوئی کام نہیں کروں گا۔" سیٹھ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اُس کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ "تو پھر تیار رہ۔ میں پولیس کو..." "جائیں۔" شبیر نے پہلی بار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ "جا کر بتا دیں۔ میں خود بھی جا رہا ہوں۔ میں دلدل سے نکلنا چاہتا ہوں۔ چاہے مجھے اُس میں سے نکلنے کے لیے اپنی جلد ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔" سیٹھ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ حیران رہ گیا۔ شبیر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ سیدھا تھانے کی طرف چل پڑا۔ تھانے میں جب شبیر نے اپنا جرم قبول کیا تو انسپکٹر حیران رہ گیا۔ "تم جانتے ہو کہ اِس کا مطلب کیا ہے؟" انسپکٹر نے پوچھا۔ "جانتا ہوں۔" شبیر نے کہا۔ اُس کی آواز میں ایک عجیب سکون تھا۔ "مگر میں اور نہیں جی سکتا تھا۔ میں زندہ لاش بن گیا تھا۔ کم از کم اب میں ایک انسان کی طرح مروں گا۔" اُس نے سب کچھ بتا دیا۔ سیٹھ کے بارے میں، پٹواری کے قتل کے بارے میں، اور تمام کاموں کے بارے میں۔ ہر لفظ اُس کے سینے سے ایک پتھر ہٹاتا گیا۔ پولیس نے سیٹھ منشا رام کو گرفتار کر لیا۔ مگر سیٹھ کے وکیل طاقتور تھے۔ وہ دو دن میں ضمانت پر باہر آ گیا۔ اُس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی۔ اُس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی۔ شبیر جیل میں رہا۔ دلدل کا قانون یہی ہے - جو کمزور ہے وہ ڈوبتا ہے، جو طاقتور ہے وہ بچ نکلتا ہے۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے شبیر کو پہلی بار سکون ملا۔ یہ سکون عجیب تھا - دردناک مگر حقیقی۔ اُسے لگا کہ وہ کسی دلدل سے نکل کر ایک چٹان پر آ گیا ہے، چاہے یہ چٹان جیل کی ہو۔ رات کو جب وہ سوتا، تو اب بھی پٹواری کا چہرہ نظر آتا، مگر اب وہ چہرہ اُسے ملامت نہیں کرتا تھا۔ وہ چہرہ خاموش تھا، جیسے انتظار کر رہا ہو کہ شبیر اپنا قرض ادا کرے۔ #MisS__ShèIkh @Mamakiprinces
11
14
26
3,146
Zeenia retweeted
Good morning X family 🌼 سب سے بڑا شیطان ہمارا اپنا نفس ہوتا ہے اس پہ قابو پا کے اسکو قید کرنا ضروری ہے اللہ ہمیں اپنے نفس پر قابو پانے کی اور نیکی کی طرف مائل ہونے کی توفیق عطا کریں آمین۔۔۔🍂 #سلام_صبح #Happy_4th_sehri #MisS__ShèIkh
77
51
102
4,931
Zeenia retweeted
I love Muhammad ﷺ I love Muhammad ﷺ
22
42
417
2,774
Zeenia retweeted
صــلوا ؏ ﺎلنبــي💙 محمــــدﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺ صبح بخیر💙
24
36
289
1,392
❀﷽❀ السلام علیکم ورحمتہ اللہوبرکاتہ صبح بخیر🌺 #خاتم_النبیین_محمدﷺ#درود_وسلام اے الله مجھے اس چیز کی توفیق دے جسے تو پسند کرے. اچھاسمجھے‘ خواہ وہ قول ہو یا عمل یا فعل یا نیت یا طریق‘ میری مدد کر علم دے کر اور مجھے آراستہ کر وقار دے کر بیشک تو ہی ہر چیز پر قادر ہے🤲🏻
43
42
230
913
الســـــــــلام علیــــــــکم ایمان بخیر زندگی🍃🌺 ہمارا رب اتنا مہربان ہے کہ ہماری عبادت اور تقویٰ کو ہمارے چہروں سے ظاہر کر دیتا ہے، مگر ہمارے گناہ ساری دنیا سے پوشیدہ رکھتا ہے۔♡ I love ALLAH 🕋🕋
36
34
227
955
❀﷽❀ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ #خاتم_النبیین_محمدﷺ#درود_وسلام اے الله مجھے اس چیز کی توفیق دے جسے تو پسند کرے. اچھاسمجھے‘ خواہ وہ قول ہو یا عمل یا فعل یا نیت یا طریق‘ میری مدد کر علم دے کر اور مجھے آراستہ کر وقار دے کر بیشک تو ہی ہر چیز پر قادر ہے🤲🏻
57
41
124
797
سحری و افطار میں تندور بند رہیں گے۔۔! 😂😂 #Afghanistan #kabuletmiyoruz #kabul
ﻧَﺼْﺮٌ ﻣِّﻦ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﻓَﺘْﺢٌ ﻗَﺮِﻳﺐٌ
1
20
28
951
Zeenia retweeted
ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ ﷴﷺ
19
32
317
1,546
Zeenia retweeted
I Love ❤️ Sayyedna Muhammad ﷺ #ILoveMuhammadﷺ
9
30
350
1,587
Zeenia retweeted
کرنل گل فراز کی شہادت کا بدلہ لے لیا گیا🇵🇰
13
25
138
1,519
Zeenia retweeted
ﻧَﺼْﺮٌ ﻣِّﻦ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﻓَﺘْﺢٌ ﻗَﺮِﻳﺐٌ
20
176
910
7,822
Zeenia retweeted
#شان_سیدنا_عثمان_غنی_رضی_اللہ_عنہ #سرمایہ_زیست احد کی لڑائی میں جب رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی اور تمام صحابہ کرام میں ایک نہایت بے چینی اور سراسیمگی پھیل گئی اور اس پریشانی و بدحواسی میں بعض لوگ میدان جنگ سے ہٹ گئے @ 1
1
9
12
58