ایک ایسے شخص کی کہانی گردش کر رہی ہے__
جس نے 1970 کی دہائی میں روضہ رسول ﷺ کے اندر پردے (کسوہ) تبدیل کرنے میں حصہ لیا تھا__
اور اپنے تجربات بیان کیے تھے__
تفصیلات!!
یہ کہانی شیخ سرہیتی (Shaykh Sarhiti) کے پوتےمنسوب ہے__
جو ان کارکنوں میں سے ایک تھے جنہیں اغوات" کہا جاتا ہے__
اور جن کے پاس حجرہ مبارک کی
چابیاں ہوتی تھیں__
بیان کرده معجزات یا غیر معمولی تجربات میں یہ شامل ہیں__
ان کا کہنا تھا کہ بڑھاپے کے باوجود روضہ مبارک کے اندر کام کرتے ہوئے ان کا جسم ایک نوجوان کی طرح محسوس ہوتا تھا__
وہ گرد و غبار سے الرجی کا شکار تھے__
لیکن اس کمرے میں رہنا انکے لئے شفاء کا باعث بنا__
ایک بڑا اور وزنی کپڑا انہوں نے آسانی سے اٹھا لیا تھا__
جسے پانچ جوان مل کے بھی نئی اٹھا سکتے تھے__
وہ موٹے چشمے پہنتے تھے اور اسکے بغیر دیکھ نئی سکتے تھے__
لیکن حجرہ مبارک ﷺ میں رہنے کے دوران وہ بغیر چشمے کے اور انتہائی تاریکی میں بھی سوئی میں دھاگہ ڈال لیتے تھے__
خوشبوئیں جمع کرنے کا انہیں بہت شوق تھا__
انہوں نے حلفن کہا کے اس دن جیسی خوشبو کبھی نئی سونگھی جو روضےﷺ کے اندر تھی__
اک نگاہ ہم پے بھی میرے محبوب ﷺ🙏