خان صاحب تو لیڈر ہیں ہی ہیں لیکن مراد چھوٹا بھائی ہے۔
سالہاسال ہو گئے نہ ان کو دیکھا نہ بات ہوئی۔ کبھی لبھار انکے والد سے بات کر لیتا ہوں لیکن مراد سے رابطہ کی کبھی بھی کوشش نہیں کی کہ کہیں اس کو میرے ساتھ رابطہ کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ بس یہ دعا ہے جہاں بھی ہے خوش رہے محفوط رہے اور اللّٰہ کرے جلد حالات بہتر ہوں اور خان صاحب بھی باہر آئیں اور مراد سعید بھی واپس ہم سے آملے۔ قاسم سوری بھی واپس پاکستان آئے۔ ڈاکٹر شہباز گل عمران ریاض بھائی صابر شاکر بھائی معید پیرزادہ صاحب وجاہت سعید خان اور بہت سے دیگر ساتھی واپس اپنے دیس آئیں اپنے پاکستان آئیں۔
یہ سب محب وطن پاکستانی ہیں۔ پاکستان پہ جان چھڑکتے ہیں بس امتحان میں ہیں۔
وہ پرانے ساتھی جو کسی لالچ میں نہیں بلکہ مجبور کر دئیے گئے پارٹی چھوڑنے پہ جن کے دل میں آج بھی خان صاحب کا پیار زندہ ہے انکے لئے بھی دعا گو ہوں کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو تب تحریک انصاف میں آئے جب اس جماعت میں کوئی کونسلر بھی نہ تھا۔ یہ لوگ پارٹی میں کچھ بننے نہیں پارٹی کو بنانے آئے تھے خان صاحب سے محبت کرتے تھے بس ہر اک آدمی کے برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ کچھ زیادہ برداشت کر گئے ہم جیسے اور کچھ کم لیکن جو بھی دل سے خان کے ساتھ ہے آج نہیں تو کل میرا رب ہمیں پھر سے ملا دے گا۔
انشاءاللّٰہ
پھر سے بنی گالا کی وہی پرانی رونقیں بحال ہونگیں۔ ہم سب پھر اکھٹے ہونگے اور لوگوں کو وہ تحریک انصاف دوبارہ نظر آئے گی جس تحریک انصاف کی قیادت کو دیکھ دیکھ کر اک نسل جوان ہوئی۔ جو لوگوں کی آنکھوں میں آج بھی رچی ہوئی ہے۔ کچھ روٹھوں کو منانا بھی پڑے گا اور کچھ خود ہی مان جائیں گے۔
سب کچھ واپس ویسا ہوجائے گا جیسا کبھی ہوا کرتا تھا۔ خان صاحب بھی ہونگے شاہ صاحب بھی ہونگے عمر ایوب بھائی زرتاج گل وزیر اور دل تو کہتا ہے اسد عمر بھائی بھی ہوں شاہ فرمان بھائی علی زیدی بھائی عمران اسماعیل بھائی عثمان ڈار شیرین مزاری صاحبہ علوی صاحب شفقت محمود صاحب صداقت عباسی فواد چودھری ملیکہ بخاری اور آج کی یہ نئی قیادت بھی ہوگی انشاءاللّٰہ۔
بس اک کمی ہے اور رہے گی۔ نعیم الحق صاحب کی بہت یاد آئے گی۔ بنی گالا اور نعیم بھائی لازم و ملزوم تھے۔ نعیم بھائی اک ملنگ درویش آدمی تھے۔ آخری دنوں میں اللّٰہ نے مجھے ان سے رابطہ میں رکھا اور انکی دعائیں لیں۔ بنی گالا مسجد بھی انہوں نے بنوائی اور اتنے بڑے آدمی کے نزدیک ترین ساتھی ہونے کے باوجود جب سب کچھ انکے ہاتھوں میں تھااور جب کہ بنی گالا بڑی بڑی گاڑیوں والے آتے تھے نعیم بھائی نے مرتے دم تک ایک پرانی ماڈل کی کالے رنگ کی ٹویوٹا کرولا رکھی ہوئی تھی۔ خان صاحب سے بھائیوں سے زیادہ پیار کرتے تھے اور انکی ہر چیز کا ایک بھائی کی طرح سے دیکھ بھال کرتے تھے اور
@PTIofficial کارکنان کے سرپرست تھے۔
بنی گالا کی رونقیں تو پھر سے بحال ہوجائیں گیں لیکن وہ پرانی کالی کرولا بنی گالا میں پھر کبھی نظر نہ آئے گی۔ 😞
شاید ایسے ہی موقع کیلئے احسان دانش کہہ گئے کہ
خواب ہو کے رہ گئیں ہیں کیسی کیسی حسرتیں
داغِ فرقت دے گیا ہے کیسا کیسا آشنا
دعا ہے میرا لیڈر
@ImranKhanPTI جلد واپس بنی گالا آئے اور شیر کی طرح پھر کمان سنبھالے۔ انشاءاللّٰہ
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
عمران خان و تحریک انصاف پائیندہ باد