کبھی تم نے سوچا
ہم جسم کو تو بھوکا رکھتے ہیں،
مگر دل کو کس چیز سے بچاتے ہیں؟
روزہ صرف سحری اور افطار کے درمیان کا وقفہ نہیں
یہ دل کے اندر اٹھنے والی ہر خواہش کے سامنے
“نہیں” کہنے کا نام ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے
جب تمہیں کوئی دیکھ نہ رہا ہو
مگر تم پھر بھی خود کو روک لو
کیونکہ تم جانتے ہو
وہ دیکھ رہا ہے۔
دل کا روزہ یہ ہے
کہ تم بدلہ لے سکتے ہو
مگر معاف کر دو۔
تم بول سکتے ہو
مگر خاموش رہو۔
تم دکھا سکتے ہو
مگر چھپا لو۔
یہ وہ مقام ہے
جہاں بندہ اللہ کو ثابت نہیں کرتا،
خود کو اللہ کے سامنے ثابت کرتا ہے۔
افطار صرف کھجور سے نہیں ہوتی
کبھی کبھی افطار اس وقت ہوتی ہے
جب تم اپنی انا توڑ کر
کسی کو معاف کر دیتے ہو۔
اور سحری صرف کھانے کا نام نہیں
کبھی وہ آنکھ کے آنسو بھی ہوتے ہیں
جو تم تنہائی میں
رب کے حضور بہا دیتے ہو۔
روزہ جسم سے شروع ہوتا ہے
مگر اگر دل تک نہ پہنچے
تو ادھورا رہ جاتا ہے۔
اور جب دل کا روزہ مکمل ہو جائے
تو بندہ بدل جاتا ہے۔
خاموش… مگر روشن۔
ٹوٹا ہوا… مگر قریب۔
کمزور… مگر محفوظ۔
رمضان باہر نہیں اترتا،
وہ اندر اترتا ہے۔