غزل
دعائیں جب بھی مانگیں تو مجھے صورتِ ماں آئی
کڑی دھوپوں میں جلتے سر پہ جیسے سائباں آئی
بھروسہ تھا مجھے اپنی لکیروں کی حقیقت پر
مگر جب بھی سنبھل پایا تو میرے درمیاں ماں آئی
اندھیری راہوں میں جب خوف نے گھیرا تھا دل کو
چراغِ آرزو بن کر مری جانب عیاں ماں آئی
محبت کا نہیں ثانی کوئی دیکھا زمانے میں
جہاں دیکھا خلوصِ دل وہاں بس مہرباں ماں آئی
قلم جب بھی اٹھایا میں نے دکھ کی داستاں لکھنے
مرے احساس کی دنیا میں بن کر ترجماں ماں آئی
میں اپنی سرکشی پر تھا بہت مغرور اے آسیؔ
مگر جب سر جھکایا تو مری پہچاں ماں آئی
آسیؔ
#اردو_زبان