شیر افضل بھڑوت نے الزام لگایا ہے کہ علیمہ خان نے شہباز گل، معید پیرزادہ، عادل راجہ اور عمران ریاض کو بیرون ملک بھیجا۔
جبکہ علیمہ خان پر خود سفری پابندیاں عائد تھیں جس سلسلے میں اُنہوں نے اپریل 2025 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ کیونکہ انہیں شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کی ممبر ہونے کی وجہ سے بیرون ملک فنڈ ریزنگ کے لیے جانا تھا ۔
یہ پٹیشن 29 اپریل 2025 کو عدالت میں دائر کی گئی جس پر عدالت نے ان کا نام ECL سے ہٹانے کا حکم دیا، لیکن ٹریول کی اجازت کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کا کہا، جہاں درخواست مسترد ہوئی۔
یعنی بقول شیر افضل بھڑوت کے جس علیمہ خان نے شہباز گِل، معید پیر زادہ، عادل راجہ اور عمران ریاض کو باہر بھیجا اس علیمہ خان کا خود کا نام ECL میں ہے ۔ اس کو شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے لیے فنڈ ریزنگ کرنے کے لیے بھی بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہیں ہے ۔
ہماری ڈفرز سے گزارش ہے کہ یا تو اپنا سکرپٹ رائٹر تبدیل کر لیں یا پھر مصالحہ اتنا ڈالیں جو ہضم ہو جائے ۔