عمران خان کی شریک حیات کے ساتھ یہ سلوک اب محض بنیادی حقوق کی پامالی نہیں یہ زہنی ازیت کا ایک منظم اور ظالمانہ سلسلہ ہے۔ ظلم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ جس بیگناہ پر الزام ہے وہ تو قید میں ہے، مگر اس کے اہل خانہ کو بھی سزا دی جا رہی ہے۔
بشری خان کی فیملی صبح سویرے لاہور سے نکلتی ہے، دوپہر ایک بجے کے قریب اڈیالہ پہنچتی ہے، گھنٹوں انتظار کے بعد شام پانچ بجے واپس لاہور روانہ ہوتی ہے، رات گئے تھکی ہاری، دل شکستہ مگر اگلے ہفتے پھر امید کے ساتھ نکلنے کے ارادے سے۔
یہ دوسرا مسلسل ہفتہ ہے جب انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ آج بھی پچھلے ہفتے کی طرح چار گھنٹے انتظار کروانے کے بعد بشری خان کی فیملی کو ملاقات سے روک دیا گیا، اور ان کا لایا ہوا سامان بھی واپس کر دیا گیا۔
یہ انصاف نہیں، یہ انتقام ہے۔ ایسے ہتھکنڈے وہی استعمال کرتے ہیں جو کمزور، خوف زدہ اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہوں۔ طاقت کا اصل امتحان ظلم میں نہیں، برداشت اور عدل میں ہوتا ہے۔
جب تک عمران خان صاحب کی رہائی نہیں ہو جاتی اس ویڈیو کو روز شئیر کیا جائے گا۔
حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ، سقوطِ ڈھاکہ اور ہماری تاریخ کے تلخ حقائق
حمود الرحمٰن کمیشن جولائی 1972 میں حکومتِ پاکستان نے قائم کیا، جس کی سربراہی چیف جسٹس حمود الرحمٰن نے کی۔ اس کمیشن کا مقصد پاک فوج کے مظالم اور 1971 کی جنگ کے دوران کے حالات کا مکمل جائزہ لینا تھا، بشمول وہ عوامل جن کی وجہ سے مشرقی ہائی کمان کے کمانڈر نے اپنی کمان میں موجود مشرقی دستے کی افواج کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔
کمیشن کے پہلے حصے میں پاک فوج کے مشرقی پاکستان میں تعینات جرنیلوں اور ان کے ماتحت فوجی جوانوں کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ذکر کیا گیا۔ اس میں جنرل نیازی کی پان سمگلنگ، ریپ، کوٹھے چلانے والی خواتین سے جنسی تعلقات اور انہیں بطور مخبر استعمال کرنے جیسے معاملات سامنے آئے۔ مزید برآں، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے رشوت لے کر فیصلے کرنے اور میجر جنرل جمشید سمیت مختلف جرنیلوں اور سینئر افسران کے کروڑوں روپے مشرقی پاکستان کے بینکوں سے لوٹ کر مغربی پاکستان منتقل کرنے کا ذکر بھی شامل تھا۔
کمیشن نے ان سینئر فوجی قیادت کے ان غیر قانونی کاموں پر کھلے عام ٹرائلز اور سزاؤں کی سفارش کی، کیونکہ یہ سقوطِ ڈھاکہ سے قبل مشرقی پاکستان میں حالات کی خرابی کی بڑی وجوہات میں شامل تھے۔ دوسرے حصے میں پاک فوج کے مظالم کے کچھ واقعات بیان کیے گئے، جن میں 1971 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کی بھاری اکثریت کے باوجود جنرل یحییٰ خان کے حکم پر اسمبلی کا اجلاس مؤخر کرنا، عوامی لیگ کی مسلح بغاوت کی بنیادی وجہ بنا۔
اس بغاوت کو ختم کرنے کے لیے پاک فوج نے 25 مارچ کی شب بدنامِ زمانہ آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز کیا۔ اس آپریشن میں قتل و غارت، آتش زنی، دانشوروں اور پیشہ ور افراد کا قتلِ عام، مشرقی پاکستان کے فوجی افسران کا قتل، کاروباری افراد کا صفایا، ہندو اقلیتوں کی نسل کشی، اور بے شمار بنگالی خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی جیسے واقعات پیش آئے۔ اس دوران، ہزاروں افراد کو اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ جنگ کے اختتام تک جاری رہا۔
25 مارچ کی رات اسلحے اور بارود کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے دو ہاسٹلز پر مارٹر گولے برسائے گئے، جس سے سینکڑوں طلبہ ہلاک ہوئے۔ پاک فوج کے جونیئر افسران نے لوٹ مار، فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے عوامی قتلِ عام، بنگالی افسران اور عام لوگوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے اغوا اور قتل کرنے جیسے سنگین جرائم انجام دیے۔
کمیشن کے تیسرے حصے میں پاک فوج کی سینئر قیادت کی بزدلی، ناقص حکمت عملی، اور غلط فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا گیا۔ جنرل نیازی کی دفاعی ناکامی، میجر جنرل م رحیم کی مکتی باہنی کے خوف سے اپنے ہی فوجیوں کو چھوڑ کر بھاگنے کی بزدلی، میجر جنرل باقر صدیقی کی بار بار ہتھیار ڈالنے کی درخواست اور غداری جیسے معاملات کمیشن کی رپورٹ میں شامل کیے گئے۔
کمیشن کے چوتھے حصے میں سقوطِ ڈھاکہ کی بنیادی وجوہات بیان کی گئیں، جن میں جنرل یحییٰ کا اسمبلی اجلاس مؤخر کرنا، فوجی آپریشن کا آغاز، شیخ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات میں ناکامی، عوامی لیگ کے امیدواروں کا غیر شفاف انتخاب، اور سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکامی جیسے سنگین فیصلے شامل تھے۔ ان تمام عوامل کے باوجود، پاکستان کے اتحادی ممالک کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات نہ کرنا اور ہندوستان کی مداخلت کو کم تر سمجھنے کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔
رپورٹ کے آخر میں جنرل نیازی کی بزدلی کی انتہا کو نمایاں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ہتھیار ڈالنے کا کوئی باضابطہ حکم نہیں تھا اور وہ مزید دو ہفتے تک لڑ سکتے تھے، لیکن اس کے باوجود ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے گئے، جو آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔
آخر میں، کمیشن نے قرار دیا کہ پاکستان کی شکست کی بنیادی وجہ پاک فوج کی سینئر قیادت کی اخلاقی گراوٹ اور جرات کی کمی تھی۔ مسلسل دو بار مارشل لا لگنے کے نتیجے میں فوجی افسران بڑے پیمانے پر غیر قانونی زمینوں پر قبضہ، جائیدادیں بنانے، اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے، جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگی حوصلہ ختم ہو چکا تھا۔
کمیشن نے جنرل یحییٰ خان، جنرل نیازی، اور جنرل خداداد کو اس سانحے کے سب سے بڑے مجرم قرار دیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی۔
مصطفیٰ آباد سے قصور تک 16 کلومیٹر سڑک پر 3 ارب روپے لگ چکے ہیں، اسپیکر صاحب آپ بھی گزرتے ہیں، میں بھی گزرتا ہیں، ایمان قرآن سے بتائیں 3 ارب روپے لگے ہیں، سڑک ٹوٹ چکی ہے۔
احسن رضا، رکن اسمبلی ن لیگ #ظلم_ٹوٹے_گا_نظام_بدلے_گا
"عمران خان کی امن قائم کرنے کی کوششوں کو پاکستانی کرنلز اور جنرلوں نے سبوتاژ کر دیا ہے"
ایک دھماکہ خیز آنے والے انٹرویو میں، سینیئر افغان ایڈوائزر قاری سعید خوستی پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف چونکا دینے والے الزامات عائد کرتے ہیں۔ وہ ایک جان بوجھ کر کی گئی سبوتاژ کی مہم کا انکشاف کرتے ہیں، جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن کی کوششوں کو توڑنے اور پاکستان کے اندر خود بھی امن عمل کو ناکام بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ان بنیاد شکن انکشافات کو ہرگز نہ چھوڑیں۔
سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کروا دی گئی
سہیل آفریدی بار کونسل الیکشن کے وقت ہائیکورٹ کا دورہ کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ کی جانبداری آئین کی خلاف ورزی ہے، انہیں اسمبلی رکنیت سے ہٹایا جائے،
قانون کے پاسدار شہری کی الیکشن کمیشن سے درخواست
#PTI_Followers
میں نے احمد چھٹہ ، بلال اعجاز کو سینٹرل پنجاب کے عہدوں سے ہٹانے کا نہیں کہا ! دونوں نے اپنی MNAs کی سیٹیں قربان کردی میرے پرانے تحریکی ساتھی ہیں احمد چھٹہ کو وزیرآباد کنٹینر پر گولیاں لگی تھی۔
عمران خان پنجاب کی قیادت پر برہم !
سہیل آفریدی کو سب کلیئر ہونے کے باوجود عمران خان سے نہیں ملنے دیا۔ لگتا ہے کور کمانڈر سے میٹنگ کی جو بریفنگ اوپر گئی اس نے ٹینشن ڈال رکھی ہے۔
اب سہیل آفریدی کو رہائی تحریک ISF یعنی طلبہ تحریک کی طرح چلانے کا اعلان کر دینا چاہیئے