Central Spokesperson @ANPMarkaz

Joined May 2015
574 Photos and videos
"جناب اسپیکر، آج آرٹیکل 58-2(b) کا استعمال ایک آئینی بغاوت ہے جسے انتظامی صوابدید کا لبادہ پہنایا گیا ہے... یہ آئین ایسے ہی آمرانہ ہتھکنڈوں کو روکنے کے لیے تراشا گیا تھا۔ آج پنجاب اور اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے، ہمارے جیسے چھوٹے صوبے اسے گہری تشویش سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ کل یہ تلوار ہماری گردنوں پر بھی رکھی جا سکتی ہے۔" #قومی_اسمبلی میں خطاب، 1993 ان کا وفاقیت کا فلسفہ واضح تھا: مرکزیت پسندی وفاق کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ انہوں نے شریعت بلوں کے نام پر مسلط کی جانے والی مرکزیت پسندی کی بھی ڈٹ کر مخالفت کی، کیونکہ وہ انہیں آئین کے کثیر القومی اور تکثیری ڈھانچے کے خلاف ایک سازش سمجھتے تھے۔ انہی انتھک پارلیمانی اور آئینی جنگوں نے اس نظریاتی بنیاد کو استوار کیا جس کا نقطہ عروج اٹھارویں ترمیم کی صورت میں نکلا—جس نے نہ صرف صوبائی خود مختاری کی ضمانت دی، بلکہ 'خیبر پختونخوا' کا نام دے کر پختون تشخص کی صدیوں پرانی پیاس بجھائی۔ پارلیمان کی بالادستی: نادیدہ قوتوں کے خلاف فصیل آج کی سیاسی لغت میں "ہائبرڈ ریجیم" (Hybrid Regime) یا "اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت" جیسی اصطلاحات عام ہو چکی ہیں، لیکن اسفندیار نے دہائیوں قبل بے باکی سے طاقت کے ان نادیدہ مراکز کو للکارا تھا۔ انہوں نے مقتدرہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایوان کو یاد دلایا کہ یہ کروڑوں عوام کی خودمختار اور آخری جائے پناہ ہے، نہ کہ غیر منتخب طاقتوں کی کٹھ پتلی۔ جب منتخب وزرائے اعظم کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا تھا، تو اسفندیار نے ریاستی اداروں کی اس دراندازی کو بے نقاب کیا جو سویلین بالادستی کی جڑیں کھوکھلی کر رہی تھی۔ ان کے نزدیک، پارلیمنٹ وہ واحد مورچہ تھا جو آمریت کے جنگل اور تہذیب یافتہ معاشرے کے درمیان حائل تھا۔ "جناب اسپیکر، ہم صدر یا کسی اور طاقت کے ملازم نہیں ہیں۔ ہم پاکستان کے 14 کروڑ عوام کی مجسم آواز ہیں۔ یہ ایوان وہ واحد ادارہ ہے جو تہذیب اور جنگل کے قانون کے درمیان کھڑا ہے۔ اگر آج ہم نے ان نادیدہ قوتوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔" #قومی_اسمبلی میں خطاب، 1996 ان کا بالادستی کا تصور محض بیانات تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے احتساب کے نام پر ہونے والے سیاسی انتقام کو چیلنج کیا، اور خارجہ پالیسی کو عسکری غلبے سے نکال کر پارلیمنٹ کے تابع کرنے کا جرات مندانہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ فاٹا جیسے خطوں کو سیاسی عمل سے باہر رکھنے کے نتائج ریاست کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ اختلافِ رائے کا وقار اور پشتون روایات اسفندیار ولی خان کی پارلیمانی میراث درحقیقت 'اختلافِ رائے کے وقار' کا ایک روشن باب ہے۔ ایک ایسے ایوان میں جہاں اکثر شور شرابے اور دشنام طرازی کا غلبہ رہتا، ان کا اندازِ تخاطب ایک وضع دار مدبر کا تھا—نپا تلا، انتہائی عالمانہ، اور پشتون حجرے کی اس اعلیٰ روایت کا امین جس میں مخالف کی بات کو بھی عزت و تکریم سے سنا جاتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اختلافِ رائے ریاست سے غداری نہیں، بلکہ ایک جاندار جمہوریت کی شہ رگ ہے۔ آئین پر پہرہ دے کر اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پارلیمنٹ کا مقدمہ لڑ کر، انہوں نے پختون قومی تحریک کے سرخ پرچم کو ہمیشہ سر بلند رکھا۔ جیسا کہ انہوں نے نہایت خوبصورتی سے ایوانِ زیریں کے ضمیر کو جھنجھوڑا تھا: "اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے؛ اس کے بغیر، ہم ایک خالی ایوان میں گونجتی بے معنی آوازوں کے سوا کچھ نہیں۔ آئیے! وقار کے ساتھ بحث کریں، کیونکہ تاریخ کبھی فاتحین کے جبر کو نہیں، بلکہ حق پر ڈٹے رہنے والے باوقار لوگوں کو یاد رکھتی ہے" #HBDAsfandyarWaliKhan
13
38
353
ایوانِ اقتدار میں مزاحمت کی للکار: اسفندیار ولی خان اور آئینی و جمہوری تسلسل پاکستان کی بساطِ سیاست پر، جہاں اقتدار کی ڈوریاں اکثر نادیدہ قوتوں کے تاریک سایوں میں الجھی رہتی ہیں، اسفندیار ولی خان کا پارلیمانی سیاست میں نزول دراصل ایک تاریخی مزاحمت کے ’سرخ تسلسل‘ کا فیصلہ کن باب تھا۔ طلبہ سیاست کے تند و تیز دھاروں اور ریاستی جبر کے تاریک عقوبت خانوں سے کندن بن کر نکلنے والے اسفندیار، اپنے ہمراہ محض ایک شاندار خاندانی ورثے کا بوجھ نہیں لائے تھے۔ فخرِ افغان باچا خان کے فلسفۂ عدم تشدد اور مفکرِ وفاق عبدالولی خان کے نظریات کے وارث کی حیثیت سے، ان کے وجود پر اس طویل و کٹھن جدوجہد کے انمٹ نقوش ثبت تھے جس نے انہیں آگ اور خون کے دریا عبور کرائے تھے۔ تاہم، 1990 کی دہائی میں جب انہوں نے قومی اسمبلی کے ایوانِ زیریں میں قدم رکھا، تو انہوں نے اپنے عمل اور دانش سے ان تمام چہ مگوئیوں کو یکسر خاموش کر دیا جو انہیں محض "ولی خان کے فرزند" تک محدود دیکھنا چاہتی تھیں۔ وہ ایک نابغہ روزگار پارلیمنٹرین بن کر ابھرے—ایک ایسا مدبر جس کی فصاحت نے ایوان کے دونوں اطراف کو سحر زدہ کیا، اور ایک ایسا پاسبان جس کی عقابی نگاہوں نے آمریت کی دراندازیوں سے جمہوریت کے نازک آبگینے کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن سعی کی۔ زندانوں سے پارلیمان تک: مزاحمت کا ارتقائی سفر اسفندیار کے پارلیمانی سفر کی تفہیم کے لیے 1980 اور 1990 کی دہائیوں کے پرآشوب سیاسی منظرنامے کا ادراک ناگزیر ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی سیاہ رات کے بعد، ملک جمہوریت کی بحالی کی ایک کٹھن اور نازک منزل سے گزر رہا تھا۔ آٹھویں ترمیم کی صورت میں آرٹیکل 58-2(b) کی ننگی تلوار ہر منتخب حکومت کے سر پر لٹک رہی تھی۔ یہ عدم استحکام کا ایک ایسا گرداب تھا جہاں سویلین بالادستی محض ایک سراب تھی، اور عسکری و انٹیلی جنس ادارے ہی طاقت کے اصل محور بنے ہوئے تھے۔ اسفندیار ولی خان کی سیاسی بلوغت کسی بند کمرے میں نہیں، بلکہ مزاحمت کی بھٹی میں ہوئی تھی۔ 1970 کی دہائی میں پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) کی شمولیت سے لے کر قلعہ بالا حصار میں ریاستی تشدد برداشت کرنے، اور زیر عتاب پارٹی کو منظم رکھنے تک—ان کا ایوان تک کا سفر عوامی بیداری کے خونچکاں راستوں سے ہو کر گزرا تھا۔ 1990 کی دہائی میں، جب وہ حزب اختلاف کی صفوں میں کھڑے ہوئے، تو انہوں نے لسانی اور نظریاتی خلیج کو پاٹ کر ایک وسیع تر جمہوری محاذ تشکیل دیا۔ چارسدہ اور پشاور کے جلسوں میں ان کی گھن گرج محض سیاسی نعرے بازی نہیں تھی، بلکہ تاریخ کا وہ نوحہ تھا جس نے عوام کو بیدار کیا: "اسٹیبلشمنٹ حکومتوں کو پرانے کپڑوں کی طرح اتار پھینکتی ہے، لیکن ہم، عوام، اپنے خون اور انصاف کے دھاگوں سے ایک نیا وفاق بُنیں گے۔" سڑکوں کے احتجاج سے لے کر سینیٹ کی نشست تک ان کی منتقلی محض اقتدار کا زینہ چڑھنا نہیں تھا؛ یہ مزاحمت کے طریقہ کار کا ارتقاء تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقی جدوجہد سڑکوں پر پتھراؤ سے شروع ہو کر پارلیمنٹ کی قانون سازی پر منتج ہوتی ہے۔ آئینِ 1973 کا اٹل محافظ اور میثاقِ وفاق اسفندیار ولی خان کے نزدیک 1973 کا آئین, ایک ایسی دستاویز جسے ان کے والد نے سقوطِ ڈھاکہ کی راکھ اور خون سے تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ محض چند کاغذی شقوں کا مجموعہ نہیں تھا۔ یہ وفاق کی مختلف اکائیوں کو جوڑنے والا ایک مقدس عمرانی معاہدہ اور مرکزیت پسندی (Centralization) کی غاصبانہ قوتوں کے خلاف سب سے بڑی فصیل تھا۔ 1990 کی دہائی میں، جب اس آئین کو مسلسل تختہ مشق بنایا جا رہا تھا، اسفندیار اس کے سب سے نڈر محافظ بن کر سینہ سپر ہوئے۔ قومی اسمبلی میں ان کی تقاریر محض قانونی موشگافیاں نہیں تھیں، بلکہ چھوٹے صوبوں کی محرومیوں اور تاریخی انصاف کے مطالبے کا بے باک اظہار تھیں۔ جب آرٹیکل 58-2(b) کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں پر شب خون مارنے کے لیے استعمال کیا گیا، تو اسفندیار کی تنقید نے مصلحتوں کے تمام پردے چاک کر دیے۔ احسان اللہ خان مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی #HBDAsfandyarWaliKhan
9
25
198
Engr. Ihsan Ullah Khan retweeted
My Mentor, My lifeline. May you always be there, not just for me, for them all. #HBDAsfandyarWaliKhan
53
89
361
5,078
To declare climate, change a con job is, as you have put it, a position which involves a tremendous suspension of disbelief - a dismissal of decades of decades of data, atmospheric physics and apparent global changes. However, this story does not persist, as it is factually sound, but due to the fact that such figures as Donald Trump have been able to turn political talk into a type of transgressive entertainment. The claim that the climate crisis is a hoax, a scam, falls apart as soon as it comes up against the hard reality of empirical evidence. It is absurd to imagine thousands of independent scientists, rival countries and enormous, decentralized structures have conspired to tell a world-wide lie, without considering the logistical impossibility of such a conspiracy. It re-packages an issue of simple chemistry- trapping heat with carbon dioxide as a financial scam, and brushes off the actuality of rising sea level, extreme weather, etc as fake news. It is not skepticism, it is a determined ignorance of the physical world. Nevertheless, it is the ignorance that finds a fertile ground since in the hands of a populist showman, such as Trump, it is served as fun. Trumps political strategy is not about ruling but about acting. He works like a stand-up comedian and wrestling heel as he knows that a lecture on the subject of the emissions targets will not work as effectively as the visceral thrill of mockery. When Trump refutes the existence of climate science, he does it not using counter-data but using a punchline. He teases windmills, in the process makes jokes about cold weather debunking global warming, and presents the scientific community as a dour, elitist other that is out to deceive the common man. This turns an existential menace into one of laughter. To his audience, dismissing the expertise seems more an error of judgment than a fun and enjoyable rebel act. This dynamic eventually transforms the rejection of reality into a group game. The rhetoric presents a soothing escape by indicating a crisis as a hoax: in case climatic change is a prank, or a gimmick, one has no reason to alter, no reason to worry and no reason to forfeit. The tragedy, of course, lies in the fact that the politics can be performative, but the consequences are not. The atmosphere does not care about the fun of the rally but only the physics of carbon irrespective of the fun involved in the denial. @realDonaldTrump
NOW - Trump: "Climate change— it's the greatest con-job ever perpetrated on the world."
5
13
137
پختونخوا میں مسئلہ محض بیڈ گورننس کا نہیں رہا، یہاں اصل المیہ یہ ہے کہ گورننس نام کی کوئی شے موجود ہی نہیں۔ ریاستی نظم و نسق کا پورا ڈھانچہ بکھر چکا ہے، ادارے مفلوج ہیں، اور فیصلہ سازی عوامی مفاد کے بجائے ذاتی و سیاسی وفاداریوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ کرپشن کسی استثنا کی صورت نہیں بلکہ ایک منظم طرزِ حکومت بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کی مجموعی حالت دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے—مگر اس تباہی کے بیچ پی ٹی آئی کے چند مخصوص افراد اربوں روپے سمیٹ چکے ہیں۔ دہشت گردی ایک بار پھر عروج پر ہے۔ وہ علاقے جو قربانیوں کی علامت تھے، خصوصاً سابقہ فاٹا، آج پہلے سے زیادہ غیر محفوظ اور محروم دکھائی دیتے ہیں۔ انضمام کے نام پر جو وعدے کیے گئے تھے، وہ محض سیاسی نعرے ثابت ہوئے۔ نہ مؤثر انفراسٹرکچر قائم ہوا، نہ تعلیم، صحت، روزگار یا مقامی معیشت کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ منصوبہ سامنے آیا۔ ریاستی رِٹ کمزور، انتظامیہ غیر فعال، اور عوام خود کو ایک بار پھر تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ صوبے کے وسائل عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہونے کے بجائے ایک فرد اور اس کے گرد قائم شخصیت پرستانہ نظام کے لیے وقف ہو چکے ہیں۔ بجٹ، پالیسی، میڈیا بیانیہ اور احتجاج—سب کچھ ایک ہی شخص کے سیاسی مفاد کے گرد گھومتا ہے، جبکہ صوبہ مسلسل زوال کا شکار ہے۔ یہ طرزِ سیاست عوامی نمائندگی نہیں بلکہ ذاتی اقتدار کی توسیع ہے۔ تاہم اب یہ جھوٹا بیانیہ دم توڑ رہا ہے۔ حالیہ دھرنے نے خود پی ٹی آئی کے اُن ووٹرز پر بھی حقیقت آشکار کر دی ہے جو ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے کو کسی حقیقی اصلاحی منصوبے کا نام سمجھ بیٹھے تھے۔ جذباتی نعروں، مصنوعی مظلومیت اور سوشل میڈیا کی مہمات کے پیچھے چھپی نااہلی، بدانتظامی اور لوٹ مار اب مزید چھپ نہیں سکتی۔ تاریخ کا ایک مستقل سبق ہے کہ کلٹ مائنڈ سیٹ پر کھڑی سیاست نہ ادارے بنا سکتی ہے، نہ معاشرہ، اور نہ ہی ریاست کو درپیش پیچیدہ مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے۔ شخصیت پرستی عقل کو مفلوج اور جمہوریت کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ پختونخوا کو نعرے نہیں، سنجیدہ گورننس، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی مفاد پر مبنی سیاست درکار ہے—اور یہی وہ سچ ہے جو اب آہستہ آہستہ ہر آنکھ کے سامنے آ رہا ہے۔ احسان اللہ خان #ANP | #AwamiNationalParty | #EngrIhsanUllahKhan
2
17
28
435
تحریک انصاف پچھلے 13 سال سے اس صوبے میں حکمران رہی ہے۔ اے این پی کے پانچ سالہ دور حکومت میں، ہم نے ملاکنڈ ڈویژن میں دہشتگردی کے خلاف نہ صرف آپریشن کیے بلکہ ذمہ داری لے کر اسے فرنٹ سے لیڈ کیا۔ ہم نے قربانیاں دیں، ہمارے کارکنان شہید ہوئے، یہاں تک کہ خود اسفندیار ولی خان پر بھی خودکش حملہ ہوا۔ کیا یہ امن ہم صرف اپنے لیے مانگ رہے تھے؟ بالکل نہیں۔ ہم امن صوبے اور پورے پاکستان کے لیے مانگ رہے تھے۔ لیکن اس کی پاداش میں ہمیں ہر طرف سے سزا ملی، ہمارے خلاف پراپیگنڈے کیے گئے۔ ان پراپیگنڈوں کے پیچھےپی ٹی آئی تھی اور ملکی ادارے اس عمل میں ان کے پارٹنر تھے۔ ہمارے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا کہ ہم نے ڈالروں کے عوض پختونوں اور ان کے خون کا سودا کیا ہے۔ اب یہ لوگ بتائیں کہ پچھلے 13 سال سے پختونوں کا جو خون بہہ رہا ہے، اس کا سودا کس نے کیا ہے؟ ہم آپ پر الزام نہیں لگائیں گے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دہشتگردی کیا ہوتی ہے اور ہم اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ ہم نظریاتی طور پر اس جگہ کھڑے ہیں جہاں شدت پسند فکر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ دوسری طرف، کبھی دہشتگرد عمران خان کو اپنی طرف سے مذاکرات میں نمائندہ بناتے ہیں، تو کبھی حکومتی اراکین ان کو دفتر دینے کی بات کرتے ہیں۔پی ٹی آئی نے اپنی وفاقی حکومت کے آخر میں ان کی دوبارہ آبادکاری کی اور جیلوں سے ان کو رہائی دلائی۔ انجینئر احسان اللہ خان مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی
1
11
28
282
🔴 باڑہ احتجاج کے دوران فائرنگ اور حملوں کے بعد اسلام آباد مارچ کا اعلان سیاسی ڈرامہ ہے۔ 🔴 صوبے کے اندر سڑکیں بند اور موٹر وے سیل کر کے خیبر پختونخوا کے عوام کو یرغمال بنایا گیا۔ 🔴 میڈیا پر صرف خان کی صحت کا شور، آزاد ذرائع سے کسی خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ 🔴 اگر معاملہ صحت کا ہے تو صدرِ پاکستان کو درخواست دی جائے، عوام کو کیوں سزا دی جا رہی ہے؟ 🔴 این آر او کی سیاست میں خیبر پختونخوا کے عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ 🔴 کیا یہی طرزِ حکمرانی ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے پورا صوبہ بند کر دیا جائے؟ 🔴 بارہ برس کی حکمرانی کے باوجود صوبے کے حالات تبدیل نہ ہو سکے، کارکردگی صفر۔ 🔴 پشاور، جو کبھی پھولوں کا شہر تھا، آج کچرے کے ڈھیروں اور بدانتظامی کی تصویر بن چکا ہے۔ 🔴 موجودہ احتجاج بارہ برس کی ناکامی، نااہلی اور کرپشن سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ 🔴 عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ طویل حکمرانی کے بعد ہونے والی کرپشن اور بدانتظامی کا حساب دیا جائے۔ #ANP | #AwamiNationalParty | #EngrIhsanUllahKhan
9
26
192
🔴 خیبر پختونخوا میں بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے اور اصل سوالات کو دبانے کے لیے جعلی احتجاج کا ڈرامہ رچایا گیا۔ 🔴 صورتحال کا عنوان یہی ہے: “صوبہ جلتا رہے مگر خان کی خیر ہو۔” 🔴 تیراہ، باجوڑ، بنوں، وزیرستان، اورکزئی، کرم اور پشاور کے نواحی علاقوں میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا چکی ہے۔ 🔴 بدامنی کی یہ لہر اسلام آباد تک پہنچ چکی ہے۔ 🔴 ضربِ عضب، ضربِ شدید اور راہِ نجات جیسے آپریشنوں کے باوجود دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہ ہو سکا؟ 🔴 جب دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا تو حالات دوبارہ خراب کیوں ہوئے؟ 🔴 بنیادی سوالات کو دانستہ طور پر پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 🔴 عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے معاملہ عدالت تک پہنچایا اور ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ 🔴 وزیرِ اعظم ہاؤس تک آواز اٹھائی گئی مگر کوئی سنجیدہ ردِعمل سامنے نہ آیا۔ 🔴 سوال یہ ہے کہ جو دہشت گرد دوبارہ آباد کیے گئے اور جیلوں سے رہا کیے گئے، ان کا حساب کون دے گا؟ 🔴 جہاں احتساب اور سنجیدگی نہ ہو وہاں صرف تماشا رہ جاتا ہے۔ 🔴 باڑہ میں بے گھر افراد اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے۔ 🔴 شفافیت کا مطالبہ کرنے پر پارٹی کارکنان پر حملہ کیا گیا اور سیدھی فائرنگ کی گئی۔ 🔴 سوال کرنے والوں کو گولی کی زبان میں جواب دیا جا رہا ہے۔ 🔴 ہم عدم تشدد کے قائل ہیں اور اپنے لوگوں کیلئے امن چاہتے ہیں۔ #ANP | #AwamiNatioanlParty | #EngrIhsanUllahKhan
1
10
29
205
Engr. Ihsan Ullah Khan retweeted
باجوڑ سے موصول ہونے والی خبریں اور تصاویر نہایت دلخراش اور افسوسناک ہیں۔ بنوں کے بعد باجوڑ میں بھی دہشتگردی کے پے در پے واقعات اور ان کے تدارک میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی عملی ناکامی،ان کی مشترکہ سیاسی مصلحت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پختونوں کی جان و مال کا تحفظ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایمبولینسوں تک پر فائرنگ کی جارہی ہے، لاشیں اور زخمی زمین پر پڑے ہیں اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے۔ یہ نہ صرف انسانیت بلکہ تمام اخلاقی و قانونی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہم اس اندوہناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ اس کٹھن گھڑی میں متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے حالات پر قابو پایا جائے، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور دہشتگرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ عوام، سماجی رہنماؤں اور بالخصوص سیاسی کارکنان سے اپیل ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیں اور حالات کو سنبھالنے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ اللہ تعالیٰ پختونوں کی حالتِ زار پر رحم فرمائے اور ہمارے خطے کو امن و استحکام عطا کرے۔
59
130
398
17,211
Engr. Ihsan Ullah Khan retweeted
دا څه ګند دے؟ لکه دې کښې هم تاوان ټول په ټول د پښتونخوا اولس ته دے- شې راوښکې نه شي او قام له یې عذاب جوړ کړې دے- د پښتونخوا د خلکو دې کښې څه ګناه ده؟ دا مونږ بند کړې؟ که راوباسي يې هم پرې زمونږ څه نه،که بند وي هم پرې زمونږ څه نه خو وفاقي او صوبائي حکومتونه دې باقي دا فرېنډلي مېچ بند کړي او زمونږ د اولس دا ژوند دې باقي آسان کړي-
214
142
527
27,606
حکمرانی عوامی خدمت کا نام ہے، کسی ایک فرد یا شخصیت کی خدمت کا نہیں۔ آئین اور جمہوری اصولوں کے تحت حکومت کی اولین ذمہ داری امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ، سنجیدہ پالیسی سازی اور عوامی مسائل کا حل ہے۔ بدقسمتی سے صوبے میں گورننس کے بجائے احتجاجی سیاست کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ گزشتہ بارہ سے تیرہ برسوں سے خیبر پختونخوا ایک ایسی جماعت کے زیرِ اقتدار ہے جو حکمرانی کے بنیادی اصولوں پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے #ANP | #EngrIhsanUllahKhan
1
12
16
213
موجودہ صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو سیاسی ’’فیس سیونگ‘‘ دینے میں مصروف ہیں۔ ایک جانب احتجاج کے ذریعے ممکنہ ریلیف کو کامیابی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب شور و شرابے کی آڑ میں فیصلوں کو پسِ پردہ رکھا جا رہا ہے۔ مگر اس تمام عمل کا خمیازہ صرف خیبر پختونخوا کے عوام ہی بھگت رہے ہیں۔ احسان اللہ خان مرکزی ترجمان، عوامی نیشنل پارٹی #ANP | #EngrIhsanUllahKhan
11
35
288
🔴 سڑکوں کی بندش اور احتجاجی سیاست کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکمران جماعت عوامی مسائل سے لاتعلق ہے، احسان اللہ خان 🔴 احتجاج کرنا ہے تو وہاں کریں جہاں اصل فیصلے ہوتے ہیں، صوبے کو سیاسی میدان جنگ نہ بنایا جائے 🔴 خواتین، بچے اور مریض گھنٹوں سڑکوں پر رکے رہتے ہیں، حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہے 🔴 حکمرانی کسی فرد کی خدمت نہیں بلکہ عوامی خدمت کا نام ہے، آئین کے مطابق امن و امان اور پالیسی سازی حکومت کی ذمہ داری ہے 🔴 گزشتہ 12،13 برسوں سے خیبر پختونخوا میں گورننس کے بنیادی اصول نظرانداز کیے جا رہے ہیں 🔴 اٹک کے پار سڑکیں کیوں بند نہیں ہوتیں؟ راولپنڈی میں احتجاج کیوں نہیں کیا جاتا؟ احسان اللہ خان کا سوال 🔴 موجودہ صورتحال سے تاثر ملتا ہے کہ بڑی سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو ’’فیس سیونگ‘‘ دے رہی ہیں 🔴 احتجاج کے شور میں فیصلے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے، خمیازہ صرف خیبر پختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں 🔴 بانی چیئرمین تحریک انصاف کی صحت سے متعلق خبروں پر تشویش ہے، اگر اطلاعات درست ہیں تو مذمت ہونی چاہیے 🔴 عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے بھی غیر انسانی سلوک کی مذمت کی ہے 🔴 اے این پی قیادت نے قیام پاکستان کے بعد سے جبر اور سیاسی انتقام برداشت کیا، کسی اور کے ساتھ ناانصافی نہیں چاہتے 🔴 خیبر پختونخوا کے عوام کو سیاسی کھیل کا ایندھن نہ بنایا جائے، عوام باشعور ہیں اور جواب طلب کریں گے 🔴 حکومت احتجاجی سیاست چھوڑ کر امن، استحکام اور عوامی خدمت پر توجہ دے، عوام نے ووٹ خدمت کے لیے دیا ہے #ANP | #AwamiNationalParty | #EngrIhsanUllahKhan
9
16
165
Engr. Ihsan Ullah Khan retweeted
مسئلہ یہ ہے کہ یہ 12 سال سے ان کا واحد مسئلہ ہے۔ پختونخوا کو اس گندگی کو لانچ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا۔ عمران نیازی کے باورچی خانے اور تخت لاہور کے لیے پرویز خٹک حکومت کا استعمال کیا گیا۔ پھر محمود خان کو سونا کیونکہ عمران نیازی پہلے ہی پاکستان پر حکومت کر رہے تھے اور پختونخواہ کو اندھیرا کرنا پڑا۔ علی امین کو پہلے عمران نیازی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک جنگجو کے طور پر دکھایا گیا تھا اور اب سہیل آفریدی بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ مجھے پختونخوا کے لوگوں پر ترس آتا ہے۔ اس قوم کے لاکھوں مسائل کہاں ہیں؟ 12 سال اور ابھی تک جاری ہے۔
290
174
683
48,420
Engr. Ihsan Ullah Khan retweeted
The problem is that this is their only problem since 12 years. Pakhtunkhwa was used as a platform to launch this dirt. The government of PK was used for kitchen of IN and Takht e Lahore. Then MK to sleep over because IN was already ruling Pakistan and Pukhtunkhwa had to be darkened. AA was first shown as a warrior to secure IN and now the latest one doing the same all. I pity the people of Pakhtunkhwa. Where are the zillions of problems of this nation? 12 years and still going.
120
96
341
26,736
عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت میں آپریشن کیے گئے اور تین ماہ کے اندر اندر آئی ڈی پیز کو دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کیا گیا۔ لیکن پچھلے کئی سالوں سے صورتحال یہ ہے کہ عوام کو کچھ بھی واضح طور پر نہیں بتایا جا رہا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایک واضح پالیسی سامنے لائے اور بتائے کہ افغانستان کے حوالے سے ہماری پالیسی کیا ہے؟ ضم شدہ اضلاع میں کہاں اور کس نوعیت کی صورتحال ہے؟ یہ تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، اِن کیمرہ بریفنگ کی جائے اور شفافیت کے ساتھ لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ #ANP | #AwamiNationalParty | #EngrIhsanUllahKhan
16
58
393
غزہ پیس بورڈ میں شرکت وزیراعظم کیلئے اس لئے بڑی بات ہوگی کیونکہ یہ لوگ تو اسی پر ہی خوش ہوجاتے ہیں کہ صاحب (ٹرمپ) نے دعوت دی ہے۔ ہمارا اپنا ملک غزہ کے حالت کی عکاسی کررہا ہے، کیا اس کی کسی کو فکر ہے؟ ایک ایسے فورم کا فائدہ کیا ہے جس میں ٹرمپ سب کچھ ویٹو کرے گا اور سب کچھ اس کے اختیار میں ہوگا۔ فلسطین کا حل وہاں کی عوام کی مرضی سے ہونا چاہیئے۔ معصوم لوگوں کا قتل عام کسی صورت نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ پالیسی غزہ سمیت، تیراہ، بلوچستان اور پورے پختونخوا کے لئے ہونی چاہیئے۔ ہمارے ملک میں اپنے بہت مسائل ہیں، وزیراعظم اگر اس پر توجہ دیں تو بہتر ہوگا۔ ایمل ولی خان مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی #ANP | #AimalWaliKhan | #MediaTalk
1
12
33
232
بلوچستان اور پختونخوا میں دہشت گردی برسوں سے جاری ہے، مگر اسلام آباد میں ایک واقعے کے فوراً بعد دہشت گرد کی مکمل تفصیل سامنے آ جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف ہمارے لوگ شہید اور بے گھر ہو رہے ہیں اور پینتالیس سال سے اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمیں الزامات، مشتبہ پروفائلنگ اور کردار کشی کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام حقائق اور رویّوں کو آخر کس تناظر میں دیکھا جائے؟ #ANP | #AwamiNationalParty | #EngrIhsanUllahKhan
1
17
46
396
Engr. Ihsan Ullah Khan retweeted
راولپنڈی، امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ/ مرکزی صدر اے این پی ایمل ولی خان کی مذمت ⬛️راولپنڈی میں امام بارگاہ کے اندر خودکش دھماکہ نہایت دلخراش اور قابلِ مذمت ہے ⬛️اندوہناک واقعے میں 12 معصوم نمازیوں کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے ⬛️بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانے والے کسی صورت انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ⬛️راولپنڈی جیسے شہر میں اس طرح کا واقعہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے ⬛️عوامی نیشنل پارٹی اس بزدلانہ دہشتگردی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے ⬛️یہ واقعہ سیکیورٹی اداروں اور حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ⬛️اگر راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں امن کی یہ صورتحال ہے تو باقی ملک کا اللہ ہی حافظ #ANP | #AimalWaliKhan | #Rawalpindi
2
23
58
1,526
Wishing the very best to seasoned journalist @AbdullahMomandJ on his departure from Pakistan’s esteemed @Dawn_News. Your sharp reporting on governance, foreign affairs & conflict has been outstanding. Wishing you tremendous success & exciting new opportunities ahead! اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں #Journalism #DawnNews
Personal announcement! An incredible Journey with Dawn News comes to an end today. Working with an organization of such a journalistic excellence has been an honour and a privilege. Long live @Dawn_News یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
1
6
18
430