ابو الولید بن ہشام بن یحییٰ کنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ہم نے سرزمینِ روم پر جہاد کیا، اور ہم باری باری خدمت اور پہرہ دیا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جس کا نام سعید بن الحارث تھا،،
اللہ نے اسے بندگی کا ایک بڑا حصہ عطا کر رکھا تھا،،
یا تو وہ روزے کی حالت میں ہوتا،
یا قیام کرتے ہوئے،
یا اللہ کا ذکر کرتے ہوئے،
یا قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوتا،،
میں اس کی کثرتِ مشقت پر اسے ٹوکا کرتا اور کہتا: اپنے نفس پر رحم کرو،،
تو وہ جواب دیتا:
"اے ابو الولید! یہ تو چند گنے چنے سانس ہیں،
عمر فنا ہو رہی ہے،
دن گزرتے جا رہے ہیں،
اور ہم موت کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟"
ابو الولید کہتے ہیں:
ایک دن سعید بن الحارث خیمے میں سو گیا، اور میں پہرے پر تھا،،
میں نے خیمے کے اندر سے آواز سنی، تو اندر داخل ہوا،
دیکھا کہ سعید نیند میں باتیں کر رہا ہے اور ہنس رہا ہے اور کہہ رہا ہے:
"میں واپس جانا نہیں چاہتا، میں واپس جانا نہیں چاہتا "
پھر اس نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا، گویا کوئی چیز پکڑ رہا ہو،
پھر اسے نرمی سے اپنے سینے کی طرف واپس لے آیا، ہنستا رہا،
پھر اچانک کانپتا ہوا جاگ ارہا،
میں اس کے پاس آیا، اسے اپنے سینے سے لگا لیا،
وہ دائیں بائیں دیکھتا رہا یہاں تک کہ پرسکون ہو گیا،
پھر وہ تسبیح، تکبیر اور حمد کرنے لگا۔
میں نے کہا: اے سعید! تمہیں کیا ہوا؟ یہ کیا معاملہ تھا؟
اور میں نے اسے وہ سب کچھ بتا دیا جو میں نے اسے اسکے سوتے وقت دیکھا تھا،
اس نے کہا:
"اے ابو الولید! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں،
جب تک میں زندہ رہوں، اس بات کو چھپائے رکھنا۔"
میں نے اس سے وعدہ کیا کہ اس کی زندگی میں یہ بات کسی کو نہ بتاؤں گا،،
پھر اس نے کہا:
اے ابو الولید! میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی ہے،
لوگ اپنی قبروں سے نکل آئے ہیں، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔
پھر میرے پاس دو آدمی آئے،
میں نے ان سے زیادہ حسین اور کامل کبھی کسی کو نہیں دیکھا تھا،،
انہوں نے کہا:
"اے سعید بن الحارث! خوش ہو جا، خوش ہو جا!
اللہ نے تیرے گناہ معاف کر دیے،
تیری کوشش کو سراہ لیا ہے،
اور تیرا عمل قبول فرما لیا ہے،
ہمارے ساتھ چل، تاکہ ہم تجھے وہ نعمتیں دکھائیں
جو اللہ نے تیرے لیے ہمیشہ کی جنت اور عظیم رضوان میں تیار کر رکھی ہیں۔"
میں ان کے ساتھ بجلی کی طرح تیز گھوڑوں پر سوار ہو گیا،
یہاں تک کہ ہم ایک عظیم محل تک پہنچے،،
نہ اس کی ابتدا نظر آتی تھی، نہ انتہا، نہ اس کی بلندی؛
وہ گویا چمکتا ہوا نور تھا۔
دروازہ کھلا ،،تو اس میں ایسی حوریں تھیں جن کا حسن بیان سے باہر ہے،،
وہ کہنے لگیں:
"یہ اللہ کا ولی ہے،،
یہ اللہ کا محبوب آ گیا ہے،،
مرحبا! مرحبا "
پھر ہم ایسی مجالس تک پہنچے
جن میں سونے کے تخت تھے، جواہرات سے آراستہ،،
ہر تخت پر ایک ایسی حسین لڑکی تھی
جس کا حسن میں بیان نہیں کر سکتا،
اور ان سب کے درمیان ایک ایسی حور تھی
جو سب پر غالب تھی،
جس کے حسن پر نگاہ ٹھہر نہیں سکتی تھی،،
سب لڑکیاں میری طرف لپکیں،،
جیسے پردیس سے لوٹنے والے کا استقبال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مجھے بٹھایا
اور اس حور کے پہلو میں جگہ دی،،
انہوں نے کہا:
"یہ تمہاری زوجہ ہے،
اور اس کے ساتھ تمہیں اس جیسی ایک اور بھی ملے گی،،
میں نے کہا: میں کہاں ہوں؟
اس نے کہا:
"جنتُ المأویٰ میں"
میں نے پوچھا: تم کون ہو؟
کہنے لگی:
"میں تمہاری ہمیشہ رہنے والی زوجہ ہوں "
میں نے کہا: دوسری کہاں ہے؟
کہنے لگی:
"وہ تمہارے دوسرے محل میں ہے۔"
میں نے کہا: میں آج رات تمہارے پاس رہوں گا،
اور کل دوسری کے پاس چلا جاؤں گا،،
میں نے ہاتھ بڑھایا،،تو اس نے نرمی سے میرا ہاتھ میرے سینے کی طرف لوٹا دیا اور کہا:
"آج نہیں…
تمہیں دنیا میں واپس جانا ہے۔"
میں نے کہا:
"میں واپس جانا نہیں چاہتا "
اس نے کہا:
"ضرور جانا ہو گا،
تم تین دن رہو گے،
اور تیسرے دن، ان شاء اللہ، ہمارے ہاں افطار کرو گے "
پھر وہ اٹھ گئی،
اور میں اس کے اٹھنے سے گھبرا کر چونک اٹھا،
ابو الولید کہتے ہیں:
پہلا دن آیا!سعید بن الحارث اٹھا، غسل کیا، خوشبو لگائی، روزہ رکھا،
اور دن بھر دشمن سے لڑتا رہا،
لوگ اس کی جان جوکھوں میں ڈالنے پر حیران تھے۔
دوسرا دن آیا ،،اس نے وہی کیا،،
پھر تیسرا دن آیا،، اس دن بھی اس نے غسل کیا، خوشبو لگائی، روزہ رکھا،
اور ایسا دلیر ہو کر لڑا کہ گویا مردوں میں سب سے بہادر ہو،،
یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب تھا
کہ دشمن کا ایک تیر اس کی گردن میں لگا،
اور وہ منہ کے بل گر پڑا،،
ابو الولید کہتے ہیں: میں لپکا اور اس کے پاس پہنچ کر کہا:
"اے سعید! مبارک ہو وہ افطار جو آج تم کرو گے!
کاش میں بھی تمہارے ساتھ ہوتا!"
1/2